فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 27
راز حقیقت 27 فلسطین سے کشمیر تک کے وجود سے انکار کیا جائے جن میں یہ نسخہ مرہم عیسی موجود ہے۔اگر وہ طالب حق ہیں تو ہمارے پاس آ کر اُن کتابوں کو دیکھ لیں۔اور صرف عیسائیوں کے لئے یہی مصیبت نہیں کہ مرہم عیسی کی علمی گواہی اُن عقائد کورڈ کرتی ہے اور تمام عمارت کفارہ و تثلیث وغیرہ کی یکدفعہ گر جاتی ہے بلکہ ان دنوں میں اس ثبوت کی تائید میں اور ثبوت بھی نکل آئے ہیں کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تتبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے۔اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے اُن کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوز آسف نبی کے نام سے مشہور ہو گئے۔اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال میں تبت سے برآمد ہوئی ہے۔یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اللہ صاحب تا جرقریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔آخر ایک جگہ سے میسر آ گئی۔یہ انجیل بدھ مذہب کی ایک پرانی کتاب کا گویا ایک حصہ ہے۔بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ملک ہند میں آئے اور ایک مدت تک مختلف قوموں کو وعظ کرتے رہے۔اور بدھ مذہب کی کتابوں میں جو اُن کے ان ملکوں میں آنے کا ذکر لکھا گیا ہے اُس کا وہ سبب نہیں جو لا نے بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیم استفادہ کے طور پر پائی تھی ایسا کہنا ایک شرارت ہے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو واقعہ صلیب سے نجات بخشی تو انہوں نے بعد اس کے اس ملک میں رہنا قرین مصلحت نہ سمجھا اور جس طرح قریش کے انتہائی درجہ کے ظلم کے وقت یعنی جب کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ملک سے ہجرت فرمائی تھی۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے یہودیوں کے انتہائی ظلم کے وقت یعنی قتل کے ارادہ کے وقت ہجرت فرمائی۔اور چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلا د ہند اور