فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 28
28 فلسطین سے کشمیر تک کشمیر اور محبت اور چین کی طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا۔اور تواریخ سے اس بات کا بھی پتہ ملتا ہے کہ بعض یہودی اس ملک میں آکر اپنی قدیم عادت کے موافق بدھ مذہب میں بھی داخل ہو گئے تھے۔چنانچہ حال میں جو ایک مضمون سول ملٹری گزٹ پر چہ تاریخ ۲۳ نومبر ۱۸۹۸ء میں چھپا ہے اُس میں ایک محقق انگریز نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے اور اس بات کو بھی مان لیا ہے کہ بعض جماعتیں یہودیوں کی اس ملک میں آئی تھیں اور اس ملک میں سکونت پذیر ہوگئی تھیں اور اُسی پر چہ سول میں لکھا ہے کہ دراصل افغان بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں“ غرض جب کہ بعض بنی اسرائیل بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے تو ضرور تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آ کر بدھ مذہب کے رڈ کی طرف متوجہ ہوتے اور اس مذہب کے پیشواؤں کو ملتے۔سوایسا ہی وقوع میں آیا۔اسی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے سوانح بدھ مذہب میں لکھے گئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں بدھ مذہب کا بہت زور تھا اور بید کا مذہب مر چکا تھا اور بدھ مذہب بید کا انکار کرتا تھا۔خلاصہ یہ کہ ان تمام امور کو جمع کرنے سے ضروری طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے۔یہ بات یقینی اور پختہ ہے کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں اُن کے اس ملک میں آنے کا ذکر ہے اور جو مزار حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر میں ہے جس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس ۹۰۰ سو برس سے ہے۔یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔غالباً اُس مزار کے ساتھ کچھ کتنے ہوں گے جواب مخفی ہیں۔ان تمام امور کی مزید تحقیقات کے لئے ہماری جماعت میں سے ایک علمی تفتیش کا قافلہ طیار ہورہا ہے جس کے پیشر وا خویم مولوی حکیم حاجی حرمین نورالدین صاحب سلمہ رتبہ قرار پائے ہیں یہ قافلہ اس کھوج اور تفتیش کے لئے مختلف ملکوں میں پھرے گا اور ان سرگرم دینداروں کا کام ہوگا کہ پالی زبان کی کتابوں کو بھی دیکھیں کیونکہ یہ بھی پتہ لگا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اُس نواح میں بھی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں گئے تھے۔لیکن بہر حال کشمیر جانا اور پھر تبت میں جا کر بدھ مذہب کی پستکوں سے یہ تمام پستہ لگانا اس جماعت کا فرض منصبی ہوگا۔