فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 26
راز حقیقت 26 فلسطین سے کشمیر تک ہوں اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جو اس ضلع کے ایک معزز رئیس تھے ایک اعلیٰ درجہ کے تجربہ کار طبیب تھے جنہوں نے قریباً ساٹھ سال اپنی عمر کے اس تجربہ میں بسر کئے تھے اور جہاں تک ممکن تھا ایک بڑا ذخیرہ طبی کتابوں کا جمع کیا تھا۔اور میں نے خود طب کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان کتابوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا۔اس لئے میں اپنی ذاتی واقفیت سے بیان کرتا ہوں کہ ہزار کتاب سے زیادہ ایسی کتاب ہوگی جن میں مرہم عیسی کا ذکر ہے۔اور ان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسی کے لیے بنائی گئی تھی۔ان کتابوں میں سے بعض یہودیوں کی کتابیں ہیں اور بعض عیسائیوں کی اور بعض مجوسیوں کی۔سو یہ ایک علمی تحقیقات سے ثبوت ملتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب سے رہائی پائی تھی اگر انجیل والوں نے اس کے برخلاف لکھا ہے تو ان کی گواہی ایک ذرہ اعتبار کے لائق نہیں کیونکہ اول تو وہ لوگ واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہیں تھے اور اپنے آقا سے طرز بے وفائی اختیار کر کے سب کے سب بھاگ گئے تھے اور دوسرے یہ کہ انجیلوں میں بکثرت اختلاف ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل میں حضرت مسیح کے مصلوب ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔اور تیسرے یہ کہ ان ہی انجیلوں میں جو بڑی معتبر سمجھی جاتی ہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملے۔اور اپنے زخم اُن کو دکھلائے۔پس اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت زخم موجود تھے جن کے لئے مرہم طیار کرنے کی ضرورت تھی۔لہذا یقینا سمجھا جاتا ہے کہ ایسے موقعہ پر وہ مرہم طیار کی گئی تھی۔اور انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام چالیس روز اُسی گردو نواح میں بطور مخفی رہے اور جب مرہم کے استعمال سے بکلی شفا پائی تب آپ نے سیاحت اختیار کی۔افسوس کہ ایک ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی سے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں اُن کو اس بات کا انکار ہے کہ مرہم عیسی کا نسخہ مختلف قوموں کی کتابوں میں پایا جاتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس واقعہ کے سننے سے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے بلکہ زندہ مگر مجروح ہونے کی حالت میں رہائی پائی بڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور خیال کیا کہ اس سے تمام منصوبہ کفارہ کا باطل ہوتا ہے۔لیکن یہ قابل شرم بات ہے کہ اُن کتابوں