فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 24

راز حقیقت 24 فلسطین سے کشمیر تک ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس نے فرعون کے بدارادہ سے بچایا۔ہمارے سید ومولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مگہ کے دشمنوں کے ہاتھ سے بچایا۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 20 تا 25) راز حقیقت (1898ء) دیکھو حضرت موسیٰ نبی علیہ السلام جو سب سے زیادہ اپنے زمانہ میں حلیم اور متقی تھے تقویٰ کی برکت سے فرعون پر کیسے فتح یاب ہوئے۔فرعون چاہتا تھا کہ ان کو ہلاک کرے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں کے آگے خدا تعالیٰ نے فرعون کو مع اس کے تمام لشکر کے ہلاک کیا پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بد بخت یہودیوں نے یہ چاہا کہ ان کو ہلاک کریں اور نہ صرف ہلاک بلکہ اُن کی پاک روح پر صلیبی موت سے لعنت کا داغ لگا دیں کیونکہ توریت میں لکھا تھا کہ جو شخص لکڑی پر یعنی صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے یعنی اس کا دل پلید اور ناپاک اور خدا کے قرب سے دور جاپڑتا ہے اور راندہ درگاہ الہی اور شیطان کی مانند ہو جاتا ہے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔اور یہ نہایت بد منصوبہ تھا کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت سوچا گیا تھا تا اس سے وہ نالائق قوم یہ نتیجہ نکالے کہ یہ شخص پاک دل اور سچا نبی اور خدا کا پیارا نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ لعنتی ہے جس کا دل پاک نہیں ہے اور جیسا کہ مفہوم لعنت کا ہے وہ خدا سے بجان و دل بیزار اور خدا اُس سے بیزار ہے لیکن خدائے قادر قیوم نے بدنیت یہودیوں کو اس ارادہ سے ناکام اور نا مراد رکھا اور اپنے پاک نبی علیہ السلام کو نہ صرف صلیبی موت سے بچایا بلکہ اس کو ایک سو بیس ۱۲۰ برس تک زندہ رکھ کر تمام دشمن یہودیوں کو اُس کے سامنے ہلاک کیا۔ہاں خدا تعالیٰ کی اُس قدیم سنت کے موافق کہ کوئی اولوالعزم نبی ایسا نہیں گزرا جس نے قوم کی ایڈا کی وجہ سے ہجرت نہ کی ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی تین برس کی تبلیغ کے بعد صلیبی فتنہ سے نجات پاکر ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہودیوں کی دوسری قوموں کو جو بابل کے تفرقہ کے زمانہ سے ہندوستان اور کشمیر اور تبت میں آئے ہوئے تھے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا