فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 23

23 فلسطین سے کشمیر تک کتاب البریہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن نے اگر اس آیت میں کہ إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى رفع جسمانی کا ذکر کیا ہے تو اس ذکر کا کیا موقعہ تھا اور کونسا جھگڑا اس بارے میں یہود اور نصاری کا تھا۔تمام جھگڑا تو یہی تھا کہ صلیب کی وجہ سے یہود کو بہانہ ہاتھ آ گیا تھا کہ نعوذ باللہ یہ شخص یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ملعون ہے۔یعنی اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا۔اور جب رفع نہ ہوا تو لعنتی ہونا لازم آیا کیونکہ رفع الی اللہ کی ضد لعنت ہے۔اور یہ ایک ایسا انکار تھا جس سے حضرت عیسی علیہ السلام اپنے نبوت کے دعوے میں جھوٹے ٹھہرتے تھے کیونکہ توریت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا یعنی مرنے کے بعد راستبازوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کی روح اٹھائی نہیں جاتی یعنی ایسا شخص ہر گز نجات نہیں پاتا۔پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے سچے نبی کے دامن کو اس تہمت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور یہ فرمایا إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ـ تا معلوم ہو کہ یہودی جھوٹے ہیں۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کا اور بچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہو گیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ رافعک الی السماء بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رَافِعُكَ إِلَيَّ تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی۔اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم میں اس وقت محض قوم کی ہمدردی سے اصل بات سے دور جا پڑا اور اصل تذکرہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے شیر اعدا سے حضرت عیسی علیہ السلام کو بچالیا تھا چنانچہ خود حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میری مثال یونس نبی کی طرح ہے اور یونس کی طرح میں بھی تین دن قبر میں رہوں گا۔اب ظاہر ہے کہ مسیح جو نبی تھا اس کا قول جھوٹا نہیں ہوسکتا اس نے اپنے قصہ کو یونس کے قصہ سے مشابہ قرار دیا ہے اور چونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا بلکہ زندہ رہا اور زندہ ہی داخل ہوا تھا اس لئے مشابہت کے تقاضا سے ضروری طور پر مانا پڑتا ہے کہ مسیح بھی قبر میں نہیں مرا اور نہ مردہ داخل ہوا۔ورنہ مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت؟ غرض اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دشمنوں کے شر سے بچالیا۔آل عمران: 56 النساء : 158۔