فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 25
راز حقیقت 25 فلسطین سے کشمیر تک کر آخر کار خاک کشمیر جنت نظیر میں انتقال فرمایا اور سری نگر خان یار کے محلہ میں باعزاز تمام دفن کئے گئے۔آپ کی قبر بہت مشہور ہے۔يُزَارُ ويُتَبَرَّكُ بِهِ۔را از حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 154 تا 155) حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک سو بیس ۱۲۰ برس کی عمر ہوئی تھی۔لیکن تمام یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کہ حضرت ممدوح کی عمر صرف تینتیس برس کی تھی۔اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی۔احادیث صحیحہ سے یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی سیاح تھے۔پس اگر وہ صلیب کے واقعہ پر مع جسم آسمان پر چلے گئے تھے تو سیاحت کس زمانہ میں کی۔حالانکہ اہل لغت بھی مسیح کے لفظ کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لفظ سح سے نکلا ہے اور مسح سیاحت کو کہتے ہیں۔ماسوا اس کے یہ عقیدہ کہ خدا نے یہودیوں سے بچانے کے لئے حضرت عیسی کو دوسرے آسمان پر پہنچا دیا تھا سراسر غفوخیال معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ خدا کے اس فعل سے یہودیوں پر کوئی حجت پوری نہیں ہوتی۔یہودیوں نے نہ تو آسمان پر چڑھتے دیکھا اور نہ آج تک اتر تے دیکھا۔پھر وہ اس مہمل اور بے ثبوت قصے کو کیونکر مان سکتے ہیں۔ماسوا اس کے یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے حملہ کے وقت جو یہودیوں کی نسبت زیادہ بہادر اور جنگ جو اور کینہ ور تھے صرف اسی غار کی پناہ میں بچا لیا جو مکہ معظمہ سے تین میل سے زیادہ نہ تھی تو کیا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو بزدل یہودیوں کا کچھ ایسا خوف تھا کہ بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے اُس کے دل میں یہودیوں کی دست درازی کا کھٹکا دُور نہیں ہو سکتا تھا بلکہ یہ قصہ سرا سرا فسانہ کے رنگ میں بنایا گیا ہے۔اور قرآن کریم کے صریح مخالف اور نہایت زبردست دلائل سے جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت شناخت کرنے کے لئے مرہم عیسی ایک علمی ذریعہ اور اعلیٰ درجہ کا معیار حق شناسی ہے اور اس واقعہ سے پورے طور پر مجھے اس لئے واقفیت ہے کہ میں ایک انسان خاندان طبابت میں سے