فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 291

ملفوظات 291 فلسطین سے کشمیر تک (23 ستمبر 1905ء) کشمیر میں بنی اسرائیل اور مسیح علیہ السلام کی قبر : مسیح کی قبر واقع کشمیر کا ذکر تھا۔اس کے متعلق جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ : بہت سے شواہد اور دلائل سے یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مسیح کی قبر ہے۔اور یہاں نہ صرف ان کی قبر ہی ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے بعض دوستوں کی قبریں بھی اسی جگہ ہیں۔اول یوسف آسف ہی کا نام ہی اس پر دلالت کرتا ہے۔اس کے علاوہ چونکہ وہ جی اپنے وطن میں باغی ٹھہرائے گئے تھے۔اس لیے اس گورنمنٹ کے تحت حکومت میں کسی جگہ رہ نہ سکتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کر کے پسند کیا کہ شام جیسا سرد ملک ہی ان کے لیے تجویز کیا جہاں وہ ہجرت کر کے آگئے اور یہودیوں کی دس تباہ شدہ قو میں جن کا پتہ نہیں ملتا تھا۔وہ بھی چونکہ یہاں ہی آباد تھیں۔اس لیے اس فرض تبلیغ کو ادا کرنے کے لیے بھی یہاں اُن کا آنا ضروری تھا۔اور پھر یہاں کے دیہات اور دوسری چیزوں کے نام بھی بلادِ شام کے بعض دیہات وغیرہ سے ملتے جلتے ہیں۔اس موقعہ پر مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کی حضور کا شیر کا لفظ خود موجود ہے۔یہ لفظ اصل میں کا شیر ہے۔م تو ہم لوگ ملا لیتے ہیں۔اصل کشمیری کا شیر بولتے ہیں اور کا شیر کہلاتے ہیں۔اور آشیر عبرانی زبان میں ملک شام کا نام ہے اورک بمعنے مانند ہے۔یعنی شام کی مانند۔پھر اور بہت سے نام ہیں۔) حضرت نے فرمایا کہ: وہ سب نام جمع کرو تا کہ ان کا حوالہ کسی جگہ دیا جاوے۔اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ: اکمال الدین جو پرانی کتاب ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ انیس سو برس کا ایک نبی ہے پھر کشمیریوں کے رسم و رواج وغیرہ یہودیوں سے ملتے ہیں۔برنیئر فرانسیسی الالا یوسف آسف سہو کتابت ہے اصل میں یوز آسف“ ہونا چاہیے۔