فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 290

ملفوظات 290 فلسطین سے کشمیر تک اعتقاد ہے کہ وہ زندہ ہے قائم علی السماء ہے۔خالق۔رازق۔غیب دان محی۔ممیت ہے۔بھلا اب بتلاؤ کہ اگر یہ صفات خدا کی نہیں تو کس کی ہیں؟ بشریت تو ان صفات کی حامل ہو سکتی نہیں۔پھر خدائی میں فرق ہی کیا رہا؟ یہ تو عیسائیوں کو مدد دے رہے ہیں۔پورے نہیں نیم عیسائی تو ضرور ہیں اگر ہم ان کے عقائد ردیہ کی تردید نہ کریں تو کیا کریں؟ پھر ہمیں ماننا پڑیگا کہ نعود باللہ اسلام۔آنحضرت ﷺ۔خدا تعالیٰ کی طرف سے پاک نبی اور قرآن شریف خدا کا کلام برحق نہیں۔حضرت مسیح زندہ نہیں بلکہ مرکز کشمیر سر نیگر محله خانیار میں مدفون ہیں۔یہی سچا عقیدہ ہے۔قبر مسیح علیہ السلام : ( 9 جولائی 1903ء) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 212) بعض عیسائی اخباروں نے مسیح کی قبر واقعہ کشمیر کے متعلق ظاہر کیا ہے کہ یہ قبر مسیح کی نہیں بلکہ ان کے کسی حواری کی ہے۔اس تذکرہ پر آپ نے فرمایا کہ:۔اب تو ان لوگوں نے خو دا قرار کر لیا ہے کہ اس قبر کے ساتھ مسیح کا تعلق ضرور ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کسی حواری کی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ مسیح کی ہے۔اب اس قبر کے متعلق یہ تاریخی صحیح شہادت ہے کہ وہ شخص جو اس میں مدفون ہے وہ شہزادہ نبی تھا اور قریباً انیس سو برس سے مدفون ہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ یہ شخص مسیح “ کا حواری تھا اب ان پر ہی سوال ہوتا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ ثابت کریں کہ میسج کا کوئی حواری شہزادہ نبی کے نام سے بھی مشہور تھا۔اور وہ اس طرف آیا تھا اور یہ یقیناً ثابت نہیں ہوسکتا۔پس اس صورت میں بجز اس کے ماننے کے کہ یہ سیح علیہ السلام کی ہی قبر ہے اور کوئی چارہ نہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 366)