فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 292
ملفوظات 292 فلسطین سے کشمیر تک سیاح نے بھی ان کو بنی اسرائیل ہی لکھا ہے۔اس کے علاوہ تھو ما حواری کا ہندوستان میں آنا ثابت ہے۔اس مقام پر مفتی صاحب نے عرض کی کہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ جب حضرت مریم بیمار ہوئیں تو انہوں نے تھوما سے جو اس وقت ہندوستان میں تھا۔ملنا چاہا۔چنانچہ ان کے تابوت کو ہندوستان میں پہنچایا گیا اور وہ تھو ما سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور اس کو برکت دی اور پھر تھومانے اس کا جنازہ پڑھا۔اس ذکر پر کہا گیا کہ کیا تعجب ہے اگر فی الحقیقت یہ ایک ذریعہ اختیار کیا گیا ہو بیٹے کے پاس آنے کا۔اس کے متعلق مختلف باتیں ہوتی رہیں)۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی پر ایک اعتراض کا جواب: مندرجہ بالا سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ: ہم جب مسیح کی موت کے لیے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) پیش کرتے ہیں تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ مسیح اگر واقعہ صلیب کے بعد کشمیر چلے آئے تھے تو پھر اُن کو بجائے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے یہ کہنا چاہیے تھا کہ جب تو نے مجھے کشمیر پہنچا دیا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک سفسطہ ہے۔یہ بیچ ہے کہ مسیح" صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور موقعہ پاکر وہ وہاں سے کشمیر کو چلے آئے۔لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کا حال تو پوچھا نہیں۔وہ تو ان کی اپنی امت کا حال پوچھتا ہے۔مخالف تو بدستور کا فر کذاب تھے۔دوسرے یہاں مسیح علیہ السلام نے اپنے جواب میں یہ بھی فرمایا ہے مَا دُمُتُ فِيهِمُ (المائدة : ۱۱۸) میں جب تک ان میں تھا۔یہ نہیں کہا مَا دُمُتُ فِي اَرْضِهِمْ۔مَا دُمُتُ فِيهِمُ کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ جہاں مسیح جائیں وہاں ان کے حواری بھی جائیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کا ایک مامور ومرسل ایک سخت حادثہ موت سے بچایا جاوے اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے اذن سے ہجرت کرے اور اس کے پیرو اور حواری اسے بالکل تنہا چھوڑ دیں اور اس کا پیچھا نہ کریں۔نہیں بلکہ وہ بھی اُن کے پاس یہاں آئے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے