فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 289

ملفوظات 289 فلسطین سے کشمیر تک مولویوں کے گھروں میں ماتم پڑ جائے۔ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور پھر تو سارے انگریز رجوع با سلام ہو جائیں فرمایا :۔دنیا میں ایک حرکت ہے اس کی مثال تو یہ ہے کہ جیسے تسبیح کا ( دھاگہ ٹوٹ کر ) ایک دانہ نکل جائے تو باقی بھی نہیں ٹھہرتے خواہ پادری پٹتے ہی رہ جائیں تمام انگریز ٹوٹ پڑیں گے اللہ تعالیٰ کے داؤ ایسے ہی ہوتے ہیں مَكَرُهُ اوَمَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (آل عمران : ۵۵) ( ملفوظات جلد دوم صفحه 527 تا 528) (3 اپریل 1903ء) توہین عیسی کے اعتراض کا جواب: پھر کہتے ہیں کہ سیدنا مسیح کی توہین کرتے ہیں۔بھلاسوچو تو کہ ہم اگر اپنے پیغمبر سے ان جھوٹے اعتراضات جو نا نہی اور کور چشمی سے کر کے مسیح کو آسمان پر زندہ بٹھا کر آنحضرت علی پر کئے جاتے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے مسیح کی اصلی حقیقت کا اظہار نہ کریں تو کیا کریں؟ ہم اگر کہتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں بلکہ مرگئے جیسے دوسرے انبیاء بھی مر گئے تو ان لوگوں کے نزدیک تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہوئی۔ہم خدا تعالیٰ کے بلائے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو فرشتے آسمان پر کہتے ہیں۔افتراء کرنا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افتراء خدا کو پیارا ہے۔اب اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی سرشان اور ہتک کی گئی۔ضرور ہے کہ اس کا بدلہ لیا جاوے اور آنحضرت ﷺ کے نور اور جلال کو دوبارہ از سر نو تازہ وشاداب کر کے دکھایا جاوے اور یہ سیج کے بت کے ٹوٹنے اور اس کی موت کے ثابت ہونے میں ہے پس ہم خدا تعالیٰ کے منشاء اور ارادے کے مطابق کرتے ہیں اب ان کی لڑائی ہم سے نہیں خدا تعالیٰ سے ہے۔ان لوگوں نے حضرت مسیح کو خاصہ خدا بنایا ہوا ہے اور موحد کہلاتے ہیں ان کا