فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 288

ملفوظات 288 فلسطین سے کشمیر تک پھر اس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کشمیر میں کسر صلیب کے لئے یہ سامان ہوا ہے کہ کچھ پرانی انجیلیں وہاں سے نکلی ہیں میں نے تجویز کی کہ کچھ آدمی وہاں جائیں اور وہ انجیلیں لائیں تو ایک کتاب ان پر لکھی جائے۔یہ سن کر مولوی مبارک علی صاحب تیار ہوئے کہ میں جاتا ہوں۔مگر اس مقبرہ بہشتی میں میرے لئے جگہ رکھی جائے میں نے کہا کہ خلیفہ نورالدین کی بھی ساتھ بھیج دو۔یہ خواب حضرت اقدس نے سنایا اور فرمایا کہ اس سے پیشتر میں نے تجویز کی تھی کہ ہماری جماعت کی میتوں کے لئے ایک الگ قبرستان یہاں ہو سو خدا تعالیٰ نے آج اس کی تائید کر دی اور انجیل کے معنے بشارت کے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہاں سے کوئی بڑی بشارت ظاہر کرے اور جو شخص وہ کام کر کے لائے گاوہ قطعی بہشتی ہو گا۔( ملفوظات جلد دوم - صفحہ 526 تا 527) کشمیر میں قبر مسیح " : مغرب کی نماز با جماعت ادا کر کے حضرت اقدس حسب معمول مسجد کے شمال مغربی کو نہ میں بیٹھ گئے اور فجر کی خواب پر حضرت اقدس اور اصحاب کبار تذکرہ کرتے رہے۔حضور نے فرمایا کہ کشمیر میں مسیح کی قبر کا معلوم ہونے سے بہت قریب ہی فیصلہ ہو جاتا ہے اور سب جھگڑے طے ہو جاتے ہیں اگر فراست نہ بھی ہو تو بھی یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ آسان بات کون سی ہے۔اب آسمان پر جانے کو کون سمجھے جو باتیں قرین قیاس ہوتی ہیں وہی صحیح نکلتی ہیں آج تک خدا کے الہام سے اس کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔مگر اب خود ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا اب تخم ریزی تو ہوئی ہے امید ہے کہ کچھ اور امور بھی ظاہر ہوں گے عادت اللہ اسی طرح ہے یہ خواب بالکل سچا ہے اور اس کے ساتھ کسی طرح کی آمیزش نہیں ہے۔مجھے اس وقت خواب میں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بڑا عظیم الشان کام ہے جیسے کسی کو لڑائی پر جانا ہوتا ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ہماری فراست نے خطا نہیں کی۔یہ عقدہ اللہ تعالیٰ حل کر دے تو صد ہا برسوں کا کام ایک ساعت میں ہو جائے اور عیسائیوں اور ان