فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 8

ست بچن 8 فلسطین سے کشمیر تک تعجب نہیں کہ وہ اس سیاحت کے زمانہ میں تبت میں بھی آئے ہوں جیسا کہ آجکل بعض انگریزوں کی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر بر نیئر اور بعض دوسرے یوروپین عالموں کی یہ رائے ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ کشمیر کے مسلمان باشندہ دراصل یہود ہوں پس یہ رائے بھی کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح انہیں لوگوں کی طرف آئے ہوں اور پھر تبت کی طرف رخ کر لیا ہو اور کیا تعجب کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر یا اس کے نواح میں ہو۔یہودیوں کے ملکوں سے ان کا نکلنا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت ان کے خاندان سے خارج ہو گئی۔جو لوگ اپنی قوت عقلیہ سے کام لینا نہیں چاہتے ان کا منہ بند کرنا مشکل ہے مگر مرہم حواریین نے اس بات کا صفائی سے فیصلہ کر دیا کہ حضرت مسیح کے جسم عنصری کا آسمان پر جانا سب جھوٹے قصے اور بیہودہ کہانیاں ہیں اور بلا شبہ اب تمام شکوک و شبہات کے زخم اس مرہم سے مندمل ہو گئے ہیں۔عیسائیوں اور نیم عیسائیوں کو معلوم ہو کہ یہ مرہم معہ اس کے وجہ تسمیہ کے طب کی ہزار ہا کتابوں میں موجود ہے اور اس مرہم کا ذکر کرنے والے نہ صرف مسلمان طبیب ہیں بلکہ مسلمان۔مجوسی۔عیسائی سب اس میں شامل ہیں۔اگر چاہیں تو ہم ہزار کتاب سے زیادہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں اور کئی کتابیں حضرت مسیح کے زمانہ کے قریب قریب کی ہیں اور سب اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کے زخموں کے لئے تیار کی تھی دراصل یہ نسخہ عیسائیوں کی پرانی قرابادینوں میں تھا جو یونانی میں تالیف ہوئی تھیں پھر ہارون اور مامون کے وقت میں وہ کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ یہ کتا ہیں باوجود امتداد زمانہ کے تلف نہیں ہوسکیں یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے فضل نے ہمیں ان پر مطلع کیا۔اب ایسے یقینی واقعہ سے انکار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی ہے۔ہمیں امید نہیں کہ کوئی نظمند عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے اس سے انکار کرے کیونکہ اعلیٰ درجہ کے تواتر کا انکار کرنا حماقت بلکہ دیوانہ پن ہے۔اور وہ کتابیں جن میں یہ مرہم مذکور ہے در حقیقت ہزار ہا ہیں جن میں سے ڈاکٹر حنین کی بھی ایک کتاب ہے جو ایک پورانا عیسائی طبیب ہے ایسا ہی اور بہت سے عیسائیوں اور