فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 7

ست بچن 7 فلسطین سے کشمیر تک دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہوگئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔حال کے عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکز نئے سرے زندہ ہوا۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا۔اس کے زخموں کو بھی اچھا کر دیتا۔بالخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرا جسم جلالی ہے جو آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف جا بیٹھا۔تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا اور مسیح نے خود اپنے اس قصہ کی مثال یونس کے قصہ سے دی اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا پس اگر مسیح مر گیا تھا تو یہ مثال صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھہرتا ہے جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔غرض اس مرہم کی تعریف میں اس قد رلکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مرہم نے مسیح کو اچھا کیا انجیلوں سے یہ پتہ بھی بخوبی ملتا ہے کہ انہیں زخموں کی وجہ سے حضرت مسیح پلاطوس کی بستی میں چالیس ۴۰ دن تک برابر ٹھہرے اور پوشیدہ طور پر یہی مرہم ان کے زخموں پر لگتی رہی آخر اللہ تعالیٰ نے اسی سے ان کو شفا بخشی اس مدت میں زیرک طبع حواریوں نے یہی مصلحت دیکھی کہ جاہل یہودیوں کو تلاشی اور جستجو سے باز رکھنے کے لئے اور نیز ان کا پر کینہ جوش فرو کرنے کی غرض سے پلاطوس کی بستیوں میں یہ مشہور کر دیں کہ یسوع مسیح آسمان پر معہ جسم اٹھایا گیا اور فی الواقعہ انہوں نے یہ بڑی دانائی کی کہ یہودیوں کے خیالات کو اور طرف لگا دیا اور اس طرف پہلے سے یہ انتظام ہو چکا تھا اور بات پختہ ہو چکی تھی کہ فلاں تاریخ پلاطوس کی عملداری سے یسوع مسیح باہر نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حواری ان کو کچھ دور تک سڑک پر چھوڑ آئے اور حدیث صحیح سے جو طبرانی * میں ہے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ستاسی ۸۷ برس زندہ رہے اور ان برسوں میں انہوں نے بہت سے ملکوں کی سیاحت کی اسی لئے ان کا نام مسیح ہوا۔اور کچھ ا أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرَيْنَ وَمِائَةَ سَنَة۔(المعجم الكبير للطبراني، جلد 2 ، ما اسندت فاطمة، ما روت