فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 9

ست بچن 9 فلسطین سے کشمیر تک مجوسیوں کی کتابیں ہیں جو ان پورانی یونانی اور رومی کتابوں سے ترجمہ ہوئی ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے عہد کے قریب ہی تالیف ہوئی تھیں اور یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی طبیبوں نے یہ نسخہ عیسائی کتابوں سے ہی نقل کیا ہے مگر چونکہ ہر ایک کو وہ سب کتا ہیں میتر نہیں ہو سکتیں لہذا ہم چند ایسی کتابوں کا حوالہ ذیل میں لکھتے ہیں جواس ملک میں یا مصر میں چھپ کر شائع ہوگئی ہیں اور وہ یہ ہیں۔بوعلی سینا کا قانون مطبوعہ مصر + علامه شارح قانون + قرشی شارح قانون + شفاء الا سقام جلد دوم قرشی شاری قانون صفحه ۴۰۵ کامل الصناعه مطبوعہ مصرتصنيف على: صفحه ۶۰۲ اکسیر اعظم جلد رابع + میزان الطب + قرابادین قادری صفحه ۳۰۳ قلمی صفحه ۱۵۲ باب میم امراض جلد صفحه ۵۰۸ رياض الفوائد + منہاج البيان + قرا با دین کبیر جلد ۲ صفحه ۵۷۵ قلمی ورق ۶۵۶۴ تذکرہ داؤ دانگا کی مطبوعہ مصر صفحہ ۳۳۳۰۳۰۳ باب حرف امیم۔+ + ذخیره خوارزم شاه قرابادین بقائی جلد دوم صفحه ۴۹۷ لوامع شہر یہ تصنیف سید حسین شہر کاظمی + قرابادین حسین بن اسحاق عیسائی + قرابادین رومی اور اگر بڑی بڑی کتابیں کسی کو میسر نہ آویں تو قرابادین قادری تو ہر جگہ اور ہر شہر میں مل سکتی ہے اور اکثر دیہات کے نیم حکیم بھی اس کو اپنے پاس رکھا کرتے ہیں سواگر ذرہ تکلیف اٹھا کر اس کے صفحہ ۵۰۸ باب بستم امراض جلد میں نظر ڈالیں تو یہ عبارت اس میں لکھی ہوئی پائیں گے ”مر ہم حوار بین کہ مسمی ست بمر هم سلیخا و مرہم رسل و آنرا مر هم عیسی نیز نامند و اجزائے ایں نسخہ دوازده عدد است که حوار بین جمتہ عیسی علیہ السلام ترکیب کردہ برائے تحلیل اورام و خنازیر وطواعین و تنقیه جراحات از گوشت فاسد و اوساخ و جهت رومانیدن گوشت تازه سودمند۔اور اس جگہ نسخہ کے اجزاء لکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ ہر ایک شخص قرابادین وغیرہ کتابوں میں دیکھ سکتا ہے۔لیکن اگر یہ شبہ پیش ہو کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسی کو نبوت سے پہلے کہیں سے چوٹیں لگی ہوں یا گر گئے ہوں یا کسی نے مارا ہواور حواریوں نے ان کے زخموں کے اور ام اور قروح کی تکالیف کیلئے یہ نسخہ تیار کیا ہو تو اسکا جواب یہ ہے کہ نبوت سے