فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 255
255 فلسطین سے کشمیر تک مجموعہ اشتہارات جس پر انہیں ایمان لانا ضروری ہے اور جس کو یہودی حفظ کرتے چلے آئے ہیں۔اس مشرکانہ تعلیم کی مصدق ہے مگر تا ہم محض تحکم اور دھکے کی راہ سے یہ لوگ اس بات پر نہ حق اصرار کر رہے ہیں کہ یسوع مسیح خدا ہی ہے خدا نے قرآنِ کریم میں سچ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس افتراء سے آسمان پھٹ جائیں کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا جاتا ہے۔اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری رُوح ہر وقت دُعا کرتی ہے کہ اے خدا اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کر حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اُٹھادی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ایک زمانہ گذر گیا کہ میرے پنجوقت کی یہی دُعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کر لیں اور تثلیث کے اعتقاد سے تو بہ کریں چنانچہ ان دعاؤں کا یہ اثر ہوا ہے کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے نجات پا کر اور پھر مرہم عیسی سے صلیبی زخموں سے شفاء حاصل کر کے نصبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور افغانستان سے کوہ لغمان میں گئے اور وہاں اس مقام میں ایک مدت تک رہے جہاں شہزادہ نبی کا ایک چبوترہ کہلاتا ہے جواب تک موجود ہے اور پھر وہاں سے پنجاب میں آئے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے آخر کشمیر میں گئے اور ایک سو چھپیں برس کی عمر پا کر کشمیر میں ہی فوت ہوئے اور سرینگر خانیار کے محلہ کے قریب دفن کئے گئے اور میں اس تحقیقات کے متعلق ایک کتاب تالیف کر رہا ہوں جس کا نام ہے۔مسیح ہندوستان میں۔چنانچہ میں نے اس تحقیق کے لئے مخلصی متھی خلیفہ نور دین صاحب کو جن کا ابھی ذکر کر آیا ہوں کشمیر میں بھیجا تھا * تا وہ موقعہ پر حضرت مسیح کی قبر کی پوری تحقیقات کریں چنانچہ وہ قریباً چار ماہ کشمیر میں رہ کر اور ہر ایک پہلو سے تحقیقات کر کے اور موقعہ پر قبر کا ایک نقشہ بنا کر اور پانسو چھپن آدمیوں کی اس پر تصدیق کرا کر کہ یہی حضرت عیسی علیہ السلام خلیفه نور دین صاحب کو خدا تعالیٰ اجر بخشے کہ اس تمام سفر اور رہائش کشمیر میں انہوں نے اپنا خرچ اٹھایا اپنی جان کو تکلیف میں ڈالا اور اپنے مال سے سفر کیا۔منہ