فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 254

مجموعہ اشتہارات 254 الاشتہارالانصار 4اکتوبر 1899ء) فلسطین سے کشمیر تک تیسری شاخ اخراجات کی جس کی ضرورت مجھے حال میں پیش آئی ہے جو نہایت ضروری بلکہ اشد ضروری ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہوں۔اس لیے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے میرے دل پر اس قد رصد مہ پہنچا تارہا ہے کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گذرا ہو بلکہ اگر ہم وغم سے مرنا میرے لیے ممکن ہوتا تو یہ تم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو کچی ہدایت اور راہ راست لے کر دنیا میں آیا ہے۔ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں اور پھر اس کے ساتھ یہ دقت تھی کہ رسمی مباحثات ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں کرتے اور پرانے مشرکانہ خیالات اس قدر دل پر غالب آگئے ہیں کہ ہیت اور فلسفہ اور طبعی پڑھ کر ڈبو بیٹھے ہیں۔اور ان کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اسی برس کا بڑھا ہندو ہر چند دل میں تو خوب جانتا ہے کہ گنگا صرف ایک پانی ہے جو کسی کو کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتا اور نہ ضرر کر سکتا ہے تب بھی وہ اس بات کے کہنے سے باز نہیں آتا کہ گنگا مائی میں بڑی بڑی ست اور طاقتیں ہیں۔اور اگر اس پر دلیل پوچھی جائے تو کوئی بھی دلیل بیان نہیں کر سکتا۔تا ہم منہ سے یہ کہتا ہے کہ اس کی شکتی کی دلیل میرے دل میں ہے جس کے الفاظ متحمل نہیں ہو سکتے۔مگر وہ کیا دلیل ہے۔صرف پرانے خیالات جو دل میں جسے ہوئے ہیں۔یہی حالات ان لوگوں کے ہیں کہ نہ ان کے پاس کوئی معقول دلیل حضرت عیسی کی خدائی پر ہے اور نہ کوئی تازہ آسمانی نشان ہے جس کو وہ دکھا سکیں * اور نہ توریت کی تعلیم افسوس کہ عیسائیوں کے ہاتھ میں صرف صدہا برس کے مشکوک اور مشتبہ قصے ہیں جن کا نام نشان اور معجزات رکھا ہوا ہے لیکن اگر حقیقت میں ان کے مذہب میں معجزہ نمائی کی طاقت ہے تو میرے مقابل پر کیوں نہیں دکھلاتے۔یقیناً سمجھو کہ کچھ بھی طاقت نہیں کیونکہ خدا ان کے ساتھ نہیں۔منہ