فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 248
ریویو آف ریلیجنز 248 فلسطین سے کشمیر تک تھا اور اس کی سوانح کا بڑی محبت اور دلچسپی سے ترجمہ بھی کیا اور اس کی یاد گار کا ایک گرجا بھی بنایا اور یہ بھی اقرار کیا کہ اس کی تعلیم کا اخلاقی حصہ انجیل کی تعلیم سے ملتا ہے اور اس نے بھی اپنی تعلیم کا نام انجیل ہی رکھا ہے۔پس اس صورت میں اگر یوز آسف یسوع نہیں ہے تو یہ بار ثبوت عیسائی صاحبوں کی گردن پر ہے کہ وہ ثابت کر کے دکھلا دیں کہ کبھی مسیح کا کوئی شاگردشا ہزادہ نبی بھی کہلاتا تھا اور کبھی اس نے مسیح کی تعلیم کو اپنی تعلیم بھی قرار دیا اور اس کا نام انجیل رکھا اور میں بڑے دعوے اور ثبوت سے کہتا ہوں کہ یہ ثبوت ہرگز ان کے لئے ممکن نہیں کیونکہ ان کے نزدیک شاہزادہ نبی ایک ہی ہے یعنی یسوع ابن مریم۔اور یوز آسف کے حالات کے بیان کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں میں بعض ہزار برس سے زیادہ زمانہ کی تالیف میں جیسا کہ کتاب الکمال الدین جس میں یہ تمام باتیں درج ہیں اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یوز آسف نے جو شاہزادہ نبی تھا اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔ماسوا اس کتاب کے خاص سری نگر میں جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے ایسے پرانے نوشتے اور تاریخی کتا ہیں پائی گئی ہیں جن میں لکھا ہے کہ یہ نبی جس کا نام یوز آسف ہے اور اسے عیسی نبی بھی کہتے ہیں اور شاہزادہ نبی کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔یہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی ہے جو اس پرانے زمانہ میں کشمیر میں آیا تھا۔جس کو ان کتابوں کی تالیف کے وقت تک قریباً سولہ سو برس گزر گئے تھے یعنی اس موجودہ زمانہ تک انیس سو برس گزرا ہے۔اور اس قسم کی تحریریں کشمیر کے باشندوں کے پاس کچھ تھوڑی نہیں بلکہ بہت سی کتابیں پائی جاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ اس جگہ کے ہندؤں کے پاس بھی اپنی زبان میں ایک کتاب ہے جس میں اس شاہزادہ نبی کا ذکر ہے پس ایک حق کے طالب کو یہ تمام ثبوت اس بات کے قبول کرنے کے لئے مجبور ہے ☆ کرتے ہیں کہ در حقیقت نہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔بالخصوص جبکہ ان تمام باتوں کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے کہ اول تو خود انجیل سے یہ پتہ لگتا ہے کہ یسوع صلیب پر نہیں مرابلکہ وہ صلیب پر غشی کی حالت میں ہو گیا تھا جیسا کہ اس نے خود کہا کہ یونس نبی کا معجزہ دکھایا جاوے گا۔پس اگر صلیب پر مر گیا تھا اور مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوا تو اس ہندوؤں کی یہ کتاب بھوشیہ مہا پر ان ہے۔جس میں کشمیر کے ایک راجہ کی حضرت مسیح سے ملاقات کا احوال درج ہے۔