فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 247
ریویو آف ریلیجنز 247 فلسطین سے کشمیر تک کے آسمان پر بٹھا وے اور اس قیدی کی طرح جو قید محض میں ایام گزارتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا چھوڑ دے۔کیا مسیح کے لئے یہ بہتر تھا کہ وہ اپنی اس لمبی عمر کو بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف کرتا اور ہر ایک ملک میں سفر کر کے جیسا کہ خود اس کو ایک نبی سیاح سمجھا گیا ہے اپنی منتشر قوم کو فائدہ پہنچاتا یا یہ کہ اپنی تبلیغ کا کام نا تمام چھوڑ کر اور قوم کو طرح طرح کی گمراہیوں میں پا کر آسمان پر جا بیٹھتا۔بالخصوص ان بدقسمت لوگوں کا کیا گناہ تھا جنہوں نے ابھی اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔اور یہ کہ وہ مختلف ملکوں کی سیر کرتا ہوا آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمر وہاں سیر کر کے آخر سری نگر محله یارخاں میں بعد وفات مدفون ہوا۔اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شاہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اسی ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینم مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں اور عیسائی نہایت مجبور اور حیرت زدہ ہو کر اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ شخص جو یوز آسف اور شاہزادہ نبی کہلاتا ہے وہ مسیح کے شاگردوں میں سے ایک شاگر د تھا اسی بناء پر اس کو بڑا مقدس سمجھا گیا ہے یہاں تک کہ سسلی میں اس کے نام کا ایک گرجا بھی بنایا ہوا ہے جو پورانا اور قدیم زمانہ سے ہے اور اسی تعلق کے قبول کرنے کے بعد یوز آسف کا قصہ یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔۔۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس قدر پُر جوش محبت سے یورپ کی تمام زبانوں میں یوز آسف کی تعلیم کا ترجمہ ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ کم سے کم یوز آسف کو ایک مقدس حواری سمجھا گیا ہے۔پس اس صورت میں تمام عیسائی صاحبان اس مطالبہ کے نیچے ہیں کہ انہوں نے بہر حال یوز آسف کا عیسائی مذہب سے ایک تعلق مان لیا ہے اور اس کے ظہور کا بھی وہی زمانہ قرار دیا ہے جو سیح کا زمانہ