فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 249

ریویو آف ریلیجنز 249 فلسطین سے کشمیر تک کے اس واقع کو یونس سے کیا مشابہت ہوئی۔پھر یہ کہ انہیں انجیلوں میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے زندہ نکلا اور ابھی زخم اس کے اچھے نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنے حواریوں کو ملا اور منع کیا کہ میرا حال کسی سے مت کہو اور ان کے ساتھ اپنے وطن کی طرف چلا گیا اور ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور پھر طب کی کتابوں سے متواتر طور پر ثابت ہوا ہے کہ یسوع کے زخموں کے لئے مرہم عیسی بنائی گئی تھی جس کے استعمال سے اس کے زخم اچھے ہوئے اور چونکہ وہ یہود کے دوبارہ حملے سے ڈرتا تھا اس لئے وہ اس ملک سے نکل گیا اور یہ رائے کچھ ہماری خاص رائے نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے محقق پادریوں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے جیسا کہ جرمن کے پچاس پادریوں کی رائے ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اور کئی پرانی تحریریں اور بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یسوع واقعہ صلیب کے بعد مدت تک مختلف ملکوں میں سیاحت کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس کا نام نبی سیاح ہو گیا اور ان باتوں کو مسلمانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح نبوت پانے کے بعد ایک مدت تک مختلف بلاد میں سیاحت کرتا رہا ہے پس ان تمام باتوں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یسوع ہرگز آسمان پر نہیں چڑھا اور جیسا کہ یہ تمام واقعات ایسے قریب قیاس ہیں کہ بڑی سرعت سے عقل ان کو قبول کرتی ہے ایسا ہی آسمان پر چڑھنا ایسا بعید از قیاس ہے کہ عقل اس کو فی الفور رو کرتی ہے اور دھکے دیتی ہے پس کیا وجہ کہ جو واقعات ثابت شدہ اور قریب قیاس ہیں ان کو تو قبول نہ کیا جائے اور جو خیالات ثابت نہیں ہو سکے اور نہ وہ قریب قیاس ہیں ان کو قبول کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔بالآخر ہم پر چہ الہلال کے ایڈیٹر کو جو عیسائی ہے جس نے اپنے پر چہ شائع کردہ ماہ اپریل ۱۹۰۳ء میں۔۔۔جلد میں یہ اشارہ کیا ہے کہ یسوع کا کشمیر سری نگر میں مدفون ہونا صحیح نہیں ہے مخاطب کر کے تنبیہ کرتے ہیں کہ عقلمند اور منصف آدمی کا یہ کام نہیں ہے کہ صرف مذہبی تعصب کی وجہ سے ثابت شدہ حقائق اور واقعات کو رد کرے۔بالخصوص جبکہ صاحب ہلال اپنے رسالہ میں اس بات کو مانتا ہے کہ یوز آسف شاہزادہ نبی تھا اور پورے وثوق سے قبول کرتا ہے کہ پرانی کتابیں اس کا نام شاہزادہ نبی رکھتی ہیں اور وہ کسی اور دور