فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 209

تذكرة الشهادتين 209 فلسطین سے کشمیر تک قدر حکومت حاصل کر لی تھی اور چونکہ ان کی دنیا ہی دنیارہ گئی تھی اس لئے وہ اس عزت سے جو تو ریت پر عمل کرنے سے آسمان پر مل سکتی تھی بالکل لا پروا ہو کر دنیا پرستی کے کیڑے بن گئے تھے اور تمام فخر دنیا کی وجاہت میں ہی سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے گورنر پر جو رومی سلطنت کی طرف سے تھا کسی قدر ان کا دباؤ بھی تھا کیونکہ ان کے بڑے بڑے دنیا پرست مولوی دور دراز سفر کر کے قیصر کی ملاقات بھی کرتے تھے اور سلطنت سے تعلقات بنارکھے تھے اور کئی لوگ ان میں سے سلطنت کے وظیفہ خوار بھی تھے اسی بنا پر وہ لوگ اپنے تئیں سلطنت کے بڑے خیر خواہ جتلاتے تھے اس لئے وہ اگر چہ ایک نظر سے زیر نگرانی بھی تھے مگر خوشامدانہ طریقوں سے انہوں نے قیصر اور اس کے بڑے حکام کو اپنی نسبت بہت نیک ظن بنا رکھا تھا۔انہیں چال بازیوں کی وجہ سے علماء ان میں سے سلطنت کے حکام کی نظر میں معزز سمجھے جاتے تھے اور کرسی نشین تھے۔لہذا وہ غریب گلیل کا رہنے والا جس کا نام یسوع بن مریم تھا۔ان شریر لوگوں کے لئے بہت کوفتہ خاطر کیا گیا۔اس کے منہ پر نہ صرف تھوکا گیا بلکہ گورنر کے حکم سے اس کو تازیانے بھی مارے گئے۔وہ چوروں اور بدمعاشوں کے ساتھ حوالات میں دیا گیا۔حالانکہ اس کا ایک ذرہ قصور نہ تھا۔صرف گورنمنٹ کی طرف سے یہودیوں کی ایک دل جوئی تھی کیونکہ سلطنت کی حکمت عملی کا یہ اصول ہے کہ گروہ کثیر کی رعایت رکھی جائے سو اس غریب کو کون پوچھتا تھا۔یہ عدالت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر وہ یہودیوں کے مولویوں کے سپرد ہوا اور انہوں نے اس کو صلیب پر چڑھا دیا ایسی عدالت پر خدا جو زمین و آسمان کا مالک ہے لعنت کرتا ہے مگر افسوس ان حکومتوں پر جن کی آسمان کے خدا پر نظر نہیں۔یوں بگفتن پیلاطوس جو اس ملک کا گورنر تھا مع اپنی بیوی کے حضرت عیسی کا مرید تھا اور چاہتا تھا کہ اسے چھوڑ دے مگر جب زبر دست یہودیوں کے علماء نے جو قیصر کی طرف سے باعث اپنی دنیا داری کے کچھ عزت رکھتے تھے اس کو یہ کہہ کر دھمکایا کہ اگر تو اس شخص کو سز انہیں دے گا تو ہم قیصر کے حضور میں تیرے پر فریاد کریں گے تب وہ ڈر گیا کیونکہ بزدل تھا۔اپنی ارادت پر قائم نہ رہ سکا۔یہ خوف اس لئے اس کے دامن گیر ہوا کہ بعض معزز علماء یہود نے قیصر تک اپنی رسائی بنا رکھی