فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 210
تذكرة الشهادتين 210 فلسطین سے کشمیر تک تھی اور پوشیدہ طور پر حضرت عیسی کی نسبت یہ مخبری کرتے تھے کہ یہ مفسد اور در پردہ گورنمنٹ کا دشمن ہے اور اپنی ایک جمعیت بنا کر قیصر پر حملہ کرنا چاہتا ہے بظاہر یہ مشکلات بھی پیش تھیں کہ اس سادہ اور غریب انسان کو قیصر اور اس کے حکام سے کچھ تعلق نہ تھا اور ریا کاروں اور دنیا طلبوں کی طرح ان سے کچھ تعارف نہ تھا اور خدا پر بھروسہ رکھتا تھا اور اکثر علمائے یہودا اپنی دنیا پرستی اور چالبازی اور خوشامدانہ وضع سے سلطنت میں جنس گئے تھے وہ سلطنت کے درحقیقت دوست نہ تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ سلطنت اس دھو کے میں ضرور آگئی تھی کہ وہ دوست ہیں اس لئے ان کی خاطر سے ایک بے گناہ خدا کا نبی ہر ایک طرح سے ذلیل کیا گیا مگر وہ جو آسمان سے دیکھتا اور دلوں کا مالک ہے وہ تمام شرارت پیشہ اس کی نظر سے مجوب نہ تھے آخر انجام یہ ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیئے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچالیا اور ان کی وہ دُعا منظور کر لی جو انہوں نے دردِ دل سے باغ میں کی تھی جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جا کر زار زار رویا اور دُعا کی کہ یا الہی اگر تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے۔فبـکـی بـد موع جارية و عبرات متحدّرة فسُمع لتقواه یعنی یسوع مسیح اس قدر رویا کہ دُعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہو گئے اور وہ آنسو پانی کی طرح اُس کے رخساروں پر بہنے لگے اور وہ سخت رویا اور سخت دردناک ہوا تب اُس کے تقویٰ کی وجہ سے اس کی دُعاسنی گئی اور خدا کے فضل نے کچھ اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اُتارا گیا اور پھر پوشیدہ طور پر باغبانوں کی شکل بنا کر اس باغ سے جہاں وہ قبر میں رکھا گیا تھا باہر نکل آیا اور خدا کے حکم سے دوسرے ملک کی طرف چلا گیا اور ساتھ ہی اس کی ماں گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آوَيُنَاهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِيْنِ۔* یعنی اس مصیبت کے بعد جو صلیب کی مصیبت تھی ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایسے ملک میں پہنچا دیا جس کی زمین بہت اونچی تھی اور صاف پانی تھا اور بڑے آرام کی جگہ تھی۔اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ل المؤمنون : 51