فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 208
تذكرة الشهادتين 208 فلسطین سے کشمیر تک نہ ان کا فیصلہ کر سکتا تھا۔اس صورت میں وہ ایک آسمانی حکم یعنی فیصلہ کنندہ کے محتاج تھے جو خدا سے جدید وحی پا کر اہل حق کی حمایت کرے اور قضاء وقدر سے ایسی ضلالت کی ملونی ان کے کل فرقوں میں ہو گئی تھی جو خالص طور پر ان میں ایک بھی اہلِ حق نہیں کہلا سکتا تھا۔ہر ایک فرقہ میں کچھ نہ کچھ جھوٹ اور افراط و تفریط کی آمیزش تھی۔پس یہی وجہ پیدا ہوگئی تھی کہ یہود کے تمام فرقوں نے حضرت مسیح کو دشمن پکڑ لیا تھا۔اور ان کی جان لینے کی فکر میں ہو گئے تھے کیونکہ ہر یک فرقہ چاہتا تھا کہ حضرت مسیح پورے طور پر ان کا مصدق ہو اور ان کو راستباز اور نیک چلن خیال کرے اور ان کے مخالف کو جھوٹا کہے اور ایسامداہنہ خدا تعالیٰ کے نبی سے غیر ممکن تھا۔(۴) چہارم یہ کہ مسیح ابن مریم کے لئے جہاد کا حکم نہ تھا اور حضرت موسی کا مذہب یونانیوں اور رومیوں کی نظر میں اس وجہ سے بہت بدنام ہو چکا تھا کہ وہ دین کی ترقی کے لئے تلوار سے کام لیتا رہا ہے گو کسی بہانہ سے۔چنانچہ اب تک ان کی کتابوں میں موسق کے مذہب پر برابر یہ اعتراض ہیں کہ کئی لاکھ شیر خوار بچے اس کے حکم اور نیز اس کے خلیفہ یشوع کے حکم سے جو اس کا جانشین تھا قتل کئے گئے اور پھر دا ؤڈ اور دوسرے نبیوں کی لڑائیاں بھی اس اعتراض کو چمکاتی تھیں پس انسانی فطرتیں اس سخت حکم کو برداشت نہ کرسکیں اور جب یہ خیالات غیر مذہب والوں کے انتہا تک پہنچ گئے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک ایسا نبی بھیج کر جو صرف صلح اور امن سے مذہب کو پھیلائے تو ریت پر سے وہ نکتہ چینی اُٹھا دے جو غیر قوموں نے کی تھی۔سو وہ صلح کا نبی عیسی ابن مریم تھا (۵) پانچویں یہ کہ حضرت عیسی کے وقت میں یہودیوں کے علماء کا عموماً چال چلن بہت بگڑ چکا تھا اور اُن کا قول اور فعل باہم مطابق نہ تھا۔ان کی نمازیں اور ان کے روزے محض ریا کاری سے پُر تھے اور وہ جاہ طلب علماء رومی سلطنت کے نیچے ایسے دنیا کے کیڑے ہو چکے تھے کہ تمام ہمتیں ان کی اسی میں مصروف ہوگئی تھیں کہ مکر سے یا خیانت سے یا دغا سے یا جھوٹی گواہی سے یا جھوٹے فتووں سے دنیا کماویں۔ان میں بجز زاہدانہ لباس اور بڑے بڑے جنوں کے ایک ذره روحانیت باقی نہیں رہی تھی۔وہ رومی سلطنت کے حکام سے بھی عزت پانے کے بہت خواہاں تھے اور طرح طرح کے جوڑ توڑ اور جھوٹی خوشامد سے سلطنت سے عزت اور کسی