فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 200

کشتی نوح 200 فلسطین سے کشمیر تک گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے قرآن شریف کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی اور ان کا شکر کرنا ہمیں اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنا کام مکہ اور مدینہ میں بھی نہیں کر سکتے تھے مگر ان کے ملک میں۔یہ خدا کی طرف سے حکمت تھی کہ مجھے اس ملک میں پیدا کیا پس کیا میں خدا کی حکمت کی کسرشان کروں اور جیسا که قرآن شریف کی آیت وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ * میں اللہ تعالیٰ یہ بات ہمیں سمجھاتا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد ہم نے عیسی مسیح کو صلیبی بلا سے رہائی دے کر اس کو اور اس کی ماں کو ایک ایسے اونچے ٹیلے پر جگہ دی تھی کہ وہ آرام کی جگہ تھی اور اس میں چشمے جاری تھے یعنی سری نگر کشمیر۔اسی طرح خدا نے مجھے اس گورنمنٹ کے اونچے ٹیلے پر جہاں مفسدین کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا جگہ دی جو آرام کی جگہ ہے اور اس ملک میں بچے علوم کے چشمے جاری ہیں اور مفسدوں کے حملوں سے امن اور قرار ہے پھر کیا واجب نہ تھا کہ ہم اس گورنمنٹ کے احسانات کا شکر کرتے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 75 حاشیہ) ایک یہودی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ قبر واقعہ سری نگر یہودیوں کے انبیاء کی قبروں کی طرح بنی ہوئی ہے۔دیکھو پر چہ علیحدہ حاشیہ۔منہ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 76 حاشیہ ) کر بیئر ڈلاسیرا جنوبی اٹلی کے سب سے مشہور اخبار نے مندرجہ ذیل عجیب خبر شائع کی ہے۔ار جولائی ۱۸۷۹ء کو یروشلم میں ایک بوڑھا راہب مسمی کور مرا جو اپنی زندگی میں ایک ولی مشہور تھا اس کے پیچھے اس کی کچھ جائیدادور ہی اور گورنر نے اس کے رشتہ داروں کو تلاش کر کے ان کے حوالہ دولاکھ فرینک ( ایک لاکھ پونے انہیں ہزار روپیہ ) کئے جو مختلف ملکوں کے سکوں میں تھے اور اس غار میں سے ملے جہاں وہ راہب بہت عرصے سے رہتا تھا۔روپے کے ساتھ بعض کا غذات بھی ان رشتہ داروں کو ملے جن کو وہ پڑھ نہ سکتے تھے۔چند المؤمنون: 51