فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 199
کشتی نوح 199 فلسطین سے کشمیر تک نکلوں گا سو یہ نشان بجز اس کے کیونکر پورا ہوسکتا تھا کہ مسیح زندہ صلیب سے اُتارا جاتا اور زندہ قبر میں داخل ہوتا اور یہ جو حضرت مسیح نے کہا کہ کوئی اور نشان نہیں دکھایا جائے گا اس فقرہ میں گویا مسیح ان لوگوں کا رد کرتا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ مسیح نے یہ نشان بھی دکھلایا کہ آسمان پر چڑھ گیا۔منہ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 57 حاشیہ) جس وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اُس وقت وہ پولوس بھی مکفرین کی جماعت میں داخل تھا جس نے بعد میں اپنے تئیں رسول مسیح کے لفظ سے مشہور کیا یہ شخص حضرت مسیح کی زندگی میں آپ کا سخت دشمن تھا جس قدر حضرت مسیح کے نام پر انجیلیں لکھی گئیں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ پیشگوئی نہیں ہے کہ میرے بعد پولوس تو بہ کر کے رسول بن جائے گا اس شخص کے گزشتہ چال چلن کی نسبت لکھنا ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ عیسائی خوب جانتے ہیں افسوس ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سو ر کو جو تربیت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا اور شراب کو بہت وسعت دے دی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان تمام بدعتوں سے یونانی بُت پرست خوش ہو جائیں۔منہ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 65 حاشیہ) بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیا کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسی بن مریم صلیب سے نجات پا کر اپنی موت طبعی سے بمقام سری نگر کشمیر مرگیا اور نہ وہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔کیا انگریز مذہبی جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے؟ پس سنو! اے نادانوں میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی