فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 201

201 کشتی نوح فلسطین سے کشمیر تک عبرانی زبان کے فاضلوں کو ان کا غذات کے دیکھنے کا موقعہ ملا تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی کہ یہ کاغذات بہت ہی پرانی عبرانی زبان میں تھے جب ان کو پڑھا گیا تو ان میں یہ عبارت تھی۔پطرس ماہی گیر یسوع مریم کے بیٹے کا خادم اس طرح پر لوگوں کو خدا تعالیٰ کے نام میں اور اس کی مرضی کے مطابق خطاب کرتا ہے اور یہ خط اس طرح ختم ہوتا ہے۔میں پطرس ماہی گیر نے یسوع کے نام میں اور اپنی عمر کے نوے ۹۰ سال میں یہ محبت کے الفاظ اپنے آقا اور مولی یسوع مسیح مریم کے بیٹے کی موت کے تین عید فسح بعد ( یعنی تین سال بعد ) خداوند کے مقدس گھر کے نزدیک بولیر کے مکان میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان فاضلوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ نسخہ پطرس کے وقت کا چلا آتا ہے۔لنڈن بائبل سوسائٹی کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا اچھی طرح سے امتحان کرانے کے بعد بائبل سوسائٹی اب ان کے عوض چار لاکھ لیرا ( دولاکھ ساڑھے سینتیس ہزار روپیہ ) مالکوں کو دے کر کاغذات کو لینا چاہتی ہے۔یسوع ابن مریم کی دعا ان دونو پر سلام ہو۔اس نے کہا۔”اے میرے خدا میں اس قابل نہیں کہ اس چیز پر غالب آ سکوں جس کو میں برا سمجھتا ہوں نہ میں نے اس نیکی کو حاصل کیا ہے جس کی مجھے خواہش تھی مگر دوسرے لوگ اپنے اجر کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور میں نہیں۔لیکن میری بڑائی میرے کام میں ہے۔مجھ سے زیادہ بری حالت میں کوئی شخص نہیں ہے۔اے خدا جو سب سے بلند تر ہے میرے گناہ معاف کر۔اے خدا ایسا نہ کر کہ میں اپنے دشمنوں کے لئے الزام کا سبب ہوں نہ مجھے اپنے دوستوں کی نظر میں حقیر ٹھہرا اور ایسا نہ ہو کہ میرا تقویٰ مجھے مصائب میں ڈالے ایسا نہ کر کہ یہی دنیا میری بڑی خوشی کی جگہ یا میرا بڑا مقصد ہو اور ایسے شخص کو مجھ پر مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے اے خدا جو بڑے رحم والا ہے اپنے رحم کی خاطر ایسا ہی کر تو جو اُن سب پر رحم کرتا ہے جو تیرے رحم کے حاجت مند ہیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 77)