فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 165

تریاق القلوب 165 فلسطین سے کشمیر تک بتلاتے ہیں اور عوام اور خواص میں یہ روایت بکثرت مشہور ہے کہ یہ نبی شام کے ملک سے آیا تھا۔غرض یہ دلائل اور حقائق اور معارف ہیں جو عیسائی مذہب کے باطل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ثابت کئے جن کو میں نے اپنی تالیفات میں بڑے بسط سے لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ ان روشن دلائل کے بعد نہ عیسائی مذہب قائم رہ سکتا ہے اور نہ اس کا کفارہ ٹھہر سکتا ہے بلکہ اس ثبوت کے ساتھ یہ عمارت یکدفعہ گرتی ہے کیونکہ جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مصلوب ہونا ہی ثابت نہ ہوا تو کفارہ کی تمام اُمید میں خاک میں مل گئیں۔اور یہ وہ فتح عظیم ہے جو حدیث کسر صلیب کی منشاء کو کامل طور پر پورا کرتی ہے اور وہ کام جو مسیح موعود کو کرنا چاہیئے یہی کام تھا کہ ایسے دلائل واضح سے عیسائی مذہب کو گرا دے نہ یہ کہ تلواروں اور بندوقوں سے لوگوں کو قتل کرتا پھرے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 236 تا 245) اور میں چونکہ مسیح موعود ہوں۔اس لیے حضرت مسیح کی عادت کا رنگ مجھ میں پایا جانا ضروری ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب پر چڑھے گو خدا کے رحم نے اُن کو بچالیا۔اور مرہم عیسی نے اُن کے زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں اُن کو پہنچا دیا۔سو انہوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے سوایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا اور ان کی تمام رات کی دعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے ان کو صلیب اور صلیب کے نتیجوں سے نجات دی ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے اور جیسا کہ اُس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدت تک کوہ لغمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے آخر کشمیر میں گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدت تک عبادت