فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 164

تریاق القلوب 164 فلسطین سے کشمیر تک آ جائے لہذا مسیح اور چوروں کو جلد صلیب پر سے اتارلیا گیا اور سپاہیوں نے یہ چالا کی کی کہ پہلے چوروں کی ٹانگوں کو توڑنا شروع کر دیا اور ایک نے اُن میں سے یہ مکر کیا کہ مسیح کی نبض دیکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے اب اس کی ٹانگیں توڑنے کی ضرورت نہیں۔اور پھر یوسف نام ایک تاجر نے ایک بڑے کو ٹھے میں اُن کو رکھ دیا اور وہ کوٹھا ایک باغ میں تھا اور یہودی مُردوں کے لئے ایسے وسیع کو ٹھے کھڑکی دار بھی بنایا کرتے تھے۔غرض حضرت مسیح اس طرح بچ گئے اور پھر چالیس دن تک مرہم عیسی سے اُن کے زخموں کا علاج ہوتا رہا جیسا کہ کتاب مسیح ہند میں میں ہم ثابت کر چکے ہیں۔اور پھر جب خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے حضرت مسیح علیہ السلام کو مرہم عیسی کے استعمال سے شفا ہوگئی اور تمام صلیبی زخم اچھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس ملک سے انہوں نے پوشیدہ طور پر ہجرت کی جیسا کہ سنت انبیاء ہے۔اور اس ہجرت میں ایک یہ بھی حکمت تھی کہ تا خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی سنت ادا ہو جائے کیونکہ اب تک وہ اپنے وطن کی چار دیواری میں ہی پھرتے تھے اور ہجرت کی تلخی نہیں اُٹھائی تھی۔اور اس سے پہلے انہوں نے اپنی ہجرت کی طرف اشارہ بھی کیا تھا جیسا کہ انجیل میں اُن کا یہ قول ہے کہ ”نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں الغرض پھر آپ پیلاطوس کے ملک سے گلیل کی طرف پوشیدہ طور پر آئے اور اپنے حواریوں کو گلیل کی سڑک پر ملے۔اور ایک گاؤں میں اُن کے ساتھ اکٹھے رات رہے اور ا کٹھے کھانا کھایا اور پھر جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ” مسیح ہند میں میں ثابت کیا ہے کئی ملکوں کی سیر کرتے ہوئے نصیبین میں آئے۔اور نصیبین سے افغانستان میں پہنچے اور ایک مدت تک اس جگہ جو کوه لغمان کہلاتا ہے اس کے قریب سکونت پذیر رہے اور اس کے بعد پنجاب میں آئے اور پنجاب کے مختلف حصوں کو دیکھا اور ہندوستان کا بھی سفر کیا اور غالبا بنارس اور نیپال میں بھی پہنچے پھر پنجاب کی طرف لوٹ کے کشمیر کا قصد کیا اور بقیہ عمر سری نگر میں گذاری اور و ہیں فوت ہوئے اور سری نگر محلہ خان یار کے قریب دفن کئے گئے اور اب تک وہ قبر یوز آسف نبی کی قبر اور شہزادہ نبی کی قبر اور عیسی نبی کی قبر کہلاتی ہے اور سرینگر میں یہ واقعہ عام طور پر مشہور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ قبر ہے اور اس مزار کا زمانہ تخمین دو ہزار برس