فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 157
تریاق القلوب 157 فلسطین سے کشمیر تک کے وقت لعنت کے مفہوم پر ذرہ غور نہیں کی اور بھول گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لقب جو شیطان پلید کو دیا گیا ہے وہی نعوذ باللہ حضرت مسیح کو دیتے۔نہایت ضروری ہے کہ اب بھی عیسائی صاحبان عربی اور عبرانی کی کتابوں کو غور سے دیکھ کر لعنت کے مفہوم کو سمجھ لیں کہ یہ کیا چیز ہے۔انہیں کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ لفظ صرف اس شخص پر اطلاق پاتا ہے جس کا دل سیاہ اور ناپاک اور خدا سے دُور اور شیطان کی طرح ہو گیا ہو اور تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے ٹوٹ گئے ہوں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کون ایماندار یہ ناپاک لقب اس راستباز کی نسبت روارکھ سکتا ہے جس کا نام انجیل میں نورلکھا ہے۔کیا وہ نور کسی زمانہ میں تاریکی ہو گیا تھا؟ کیا وہ جو درحقیقت خدا سے ہے اس کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ در حقیقت شیطان سے ہے؟ ماسوا اس کے جبکہ یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ حضرت مسیح ہرگز مصلوب نہیں ہوئے اور کشمیر میں اُن کی قبر ہے تو اب راستی کے بھوکے اور پیاسے کیونکر عیسائی مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں۔یہ سامان کسر صلیب کا ہے جو خدا نے آسمان سے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ مار مار کر لوگوں کو مسلمان بناویں۔ہماری قوم کے علماء اسلام کو ذرہ ٹھہر کر سوچنا چاہیئے کہ کیا جبر سے کوئی مسلمان ہوسکتا ہے اور کیا جبر سے کوئی دین دل میں داخل ہوسکتا ہے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحه 167 تا 170 ) عیسائی مذہب پر فتح پانے کا بجز حضرت مسیح کی طبعی موت ثابت کرنے اور صلیبی موت کے خیال کے جھوٹا ثابت کرنے کے اور کوئی طریق نہیں سو یہ خدا نے بات پیدا کر دی ہے نہ ہم نے کہ کمال صفائی سے ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح صلیب سے جان بچا کر کشمیر میں آگئے تھے اور وہیں فوت ہوئے۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جیسا کہ آفتاب کا آسمان پر چمکنا۔منہ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 169 حاشیہ ) اور عیسائیوں کی نسبت جو اتمام حجت کیا گیا وہ بھی دو قسم پر ہے۔ایک وہ کتابیں ہیں جو میں نے عیسائیوں کے خیالات کے رد میں تالیف کیں جیسا کہ براہین احمدیہ اور نورالحق اور کشف الغطاء وغیرہ۔دوسرے وہ نشان جو عیسائیوں پر حجت پوری کرنے کے لئے میں