فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 158
تریاق القلوب 158 فلسطین سے کشمیر تک نے دکھلائے اور میں نے ان کتابوں میں جو عیسائیوں کے مقابل پر لکھی گئی ہیں ثابت کر دیا ہے کہ عیسائیوں کا خونِ مسیح اور کفارہ کا مسئلہ ایسا غلط ہے کہ ایک دانشمند اور منصف کے لئے کافی ہے کہ اسی مسئلہ پر غور کر کے خدا سے ڈرے اور اس مذہب سے علیحدہ ہو جائے اور میں نے ان کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عنتی ٹھہرانے کا عقیدہ جو عیسائیوں کے مذہب کا اصل الاصول ہے ایسا صریح البطلان ہے کہ ایک سطحی خیال کا انسان بھی معلوم کر سکتا ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایسا مذہب سچا ہو جس کی بنیاد ایسے عقیدے پر ہو جو ایک راستباز کے دل کو لعنت کے سیاہ داغ کے ساتھ ملوث کرنا چاہتا ہے کیونکہ لعنت کا لفظ جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے نہایت پلید معنے رکھتا ہے اور اس لفظ کے ایسے خبیث معنے ہیں کہ بجز شیطان کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ عربی اور عبرانی کی زبان میں ملعون اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے رڈ کیا جائے۔اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے رحمت الہی سے رڈ کیا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں توریت سے قرآن شریف تک کسی ایسے شخص کی نسبت ملعون ہونے کا لفظ نہیں بولا گیا جس نے انجام کا رخدا کی رحمت اور فضل سے حصہ لیا ہو۔بلکہ ہمیشہ سے یہ ملعون اور لعنتی کا لفظ انہی ازلی بدبختوں پر اطلاق پاتا رہا ہے جو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت اور نجات اور نظر محبت سے بے نصیب کئے گئے اور خدا کے لطف اور مہربانی اور فضل سے ابدی طور پر دور اور مہجور ہو گئے اور ان کا رشتہ دائمی طور پر خدا تعالیٰ سے کاٹ دیا گیا اور اُس جہنم کا خلود اُن کے لئے قرار پایا جو خدا تعالیٰ کے غضب کا جہنم ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے کی امید نہ رہے۔اور نبیوں کے منہ سے بھی یہ لفظ کبھی ایسے اشخاص کی نسبت اطلاق نہیں پایا جو کسی وقت خدا کی ہدایت اور فضل اور رحم سے حصہ لینے والے تھے۔اس لئے یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رُو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اُس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو۔وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں یہی اشارہ ہے۔مَلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا