فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 146
مسیح ہندوستان میں 146 فلسطین سے کشمیر تک اور کتاب اے سائیکلو پیڈیا آف جیوگرافی مرتبہ جیمز برائیس ایف جی ایس مطبوعہ لندن ۱۸۵۶ء کے صفحہا میں لکھا ہے کہ افغان لوگ اپنا سلسلہ نسب سال بادشاہ اسرائیل سے ملاتے ہیں اور اپنا نام بنی اسرائیل رکھتے ہیں۔الگزنڈر برنس تسکا قول ہے کہ افغان یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ یہودی الاصل ہیں۔شاہ بابل نے انہیں قید کر کے غور کے علاقہ میں لا بسایا جو کابل سے شمال مغرب میں واقع ہے۔یہ لوگ ۲۲ ء تک اپنے یہودی مذہب پر رہے۔لیکن خالد بن عبد اللہ ( غلطی سے ولید کی جگہ عبداللہ کھا ہوا ہے ) نے اس قوم کے ایک سردار کی لڑکی سے بیاہ کر لیا اور ان کواس سال میں دین اسلام قبول کرایا۔اور کتاب ہسٹری آف افغانستان مصنفہ کر نیل جی بی میلسن کے مطبوعہ لندن ۱۸۷۸ء صفحہ ۳۹ میں لکھا ہے کہ عبداللہ خان ہراتی اور فرانسیسی سیاح فرائر یانی سرولیم جونز (جو ایک بڑا متجر عالم علوم شرقیہ گذرا ہے ) اس بات پر متفق ہیں کہ افغان قوم بنی اسرائیلی الاصل ہیں اور دیس گم شدہ فرقوں کی اولاد ہیں۔اور کتاب ہسٹری آف دی افغانس مصنفہ جی پی فرائز ( فرانسیسی ) مترجمه کپتان ولیم جے سی مطبوعہ لندن ۱۸۵۸ء صفحہ میں لکھا ہے که شرقی مؤرخوں کی کثرت رائے یہی ہے کہ افغان قوم بنی اسرائیل کے دس فرقوں کی اولاد سے ہیں اور یہی رائے افغانوں کی اپنی ہے۔اور یہی مورخ اس کتاب کے صفحہم میں لکھتا ہے کہ افغانوں کے پاس اس بات کے ثبوت کے لئے ایک دلیل ہے جس کو وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ جب نادر شاہ ہند کی فتح کے ارادہ سے پشاور پہنچا تو یوسف زئی قوم کے سرداروں نے اس کی خدمت میں ایک بائبل عبرانی زبان میں لکھی ہوئی پیش کی اور ایسا ہی کئی دوسری چیزیں پیش کیں جو ان کے خاندانوں میں اپنے قدیم مذہب کے رسوم ادا کرنے کے لئے محفوظ چلی آتی تھیں۔اس کیمپ کے ساتھ یہودی بھی موجود تھے جب ان کو یہ چیزیں دکھلائی گئیں تو فوراً انہوں نے ان کو پہچان لیا اور پھر یہی مؤرخ اپنی کتاب کے صفحہ چہارم کے بعد لکھتا ہے کہ عبداللہ خان ہراتی کی رائے میرے نزدیک بہت قابل اعتبار ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:۔ملک طالوت (سال کے دو بیٹے تھے ایک کا نام افغان دوسرے کا نام جالوت۔افغان اس قوم کا مورث اعلیٰ تھا۔داؤد اور سلیمان کی حکومت کے 1۔James Bryce, 2۔Alexander Burnes, 3۔G۔B۔malleson, 4۔J۔P۔Ferrier