فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 145

مسیح ہندوستان میں 145 فلسطین سے کشمیر تک اور اپنے یہودی مذہب کے ارکان کے ادا کرنے کی پوری آزادی انہیں حاصل ہے۔ربی بن یمین ساکن شہر ٹولیڈ ول (سپین) بارھویں صدی عیسوی میں گم شدہ قبیلوں کی تلاش میں گھر سے نکلا۔اس کا بیان ہے کہ یہ یہودی لوگ چین ایران اور تبت میں آباد ہیں۔جوزی فس کے جس نے ۹۳ء میں یہودیوں کی قدیم تاریخ لکھی ہے اپنی گیارھویں کتاب میں عزرا نبی کے ساتھ قید سے واپس جانے والے یہودیوں کے بیان کے ضمن میں بیان کرتا ہے کہ دس قبیلے دریائے فرات کے اس پار اب تک آباد ہیں اور ان کی تعداد شمار سے باہر ہے دریائے فرات سے اس پار سے مراد فارس اور مشرقی علاقے ہیں ) اور سینٹ جروم جو پانچویں صدی عیسوی میں گذرا ہے ہوسیع نبی کا ذکر کرتے ہوئے اس معاملہ کے ثبوت میں حاشیہ پر لکھتا ہے کہ اس دن سے (بنی اسرائیل کے ) دس فرقے شاہ پار تھیا یعنی پارس کے ماتحت ہیں اور اب تک قید سے رہا نہیں کئے گئے۔اور اسی کتاب کی جلد اول میں لکھا ہے کہ کونٹ جورن سٹرنا اپنی کتاب کے صفحہ ۲۳۳ ۲۳۴۰ میں تحریر کرتا ہے کہ افغان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بخت نصر نے ہیکل یروشلم کی تباہی کے بعد بامیان کے علاقہ میں انہیں جلا وطن کر کے بھیج دیا۔(بامیان کا علاقہ غور کے متصل اور افعانستان میں واقع ہے) اور کتاب اے نیرے ٹو آف اے وزٹ ٹو غزنی کابل افغانستان۔مصنفہ جی ٹی ویگن " ایف جی ایس مطبوعہ ۱۸۴۰ء کے صفحہ ۶ میں لکھا ہے کہ کتاب مجمع الانساب سے ملا خدا داد نے پڑھ کر سنایا کہ یعقوب کا بڑا بیٹا یہودا تھا اس کا بیٹا اسرک تھا۔اُسرک کا بیٹا اکنور۔اکنور کا بیٹا معالب۔معالب کا فرلائی۔فرلائی کا بیٹا قیس تھا۔قیس کا بیٹا طالوت۔طالوت کا ارمیاہ۔اور ارمیاہ کا بیٹا افغان تھا اس کی اولا د قوم افغان ہے اور اسی کے نام پر افغان کا نام مشہور ہوا۔افغان بخت نصر کا ہم عصر تھا اور بنی اسرائیل کہلاتا تھا اور اُس کے چالیس بیٹے تھے۔اس کی چونتیسویں پشت میں دو ہزار برس بعد وہ قیس ہوا جومحمد (رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میں تھا۔اس سے چونسٹھ نسلیں ہو لیں۔سلم نامی افغان کا سب سے بڑا بیٹا اپنے وطن شام سے ہجرت کر کے غور مشکوہ کے علاقہ میں جو ہرات کے قریب ہے آباد ہوا۔اس کی اولا دافغانستان میں پھیل گئی۔1۔Benjamin of toleda, 2۔Flavious Josephus, 3۔Jerome, 4۔The British Empire in