فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 140
140 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں ہوئی اور محرف اور مبدل کتاب خیال کرتا ہے اور جس زمانہ میں وہ ہندو اور دید کا تابع تھا اس زمانہ کی پیدائش کو ایک بُری پیدائش قرار دیتا ہے۔چنانچہ وہ اشارات کے طور پر کہتا ہے کہ میں ایک مدت تک بندر بھی رہا اور ایک زمانہ تک ہاتھی اور پھر میں ہرن بھی بنا اور کتا بھی اور چار دفعہ میں سانپ بنا۔اور پھر چڑیا بھی بنا اور مینڈک بھی بنا اور دو دفعہ مچھلی بنا اور دس دفعہ شیر بنا اور چار دفعہ مرغا بنا اور دو دفعہ میں سور بنا اور ایک دفعہ خرگوش بنا اور خرگوش بننے کے زمانہ میں بندروں اور گیدڑوں اور پانی کے کتوں کو تعلیم دیا کرتا تھا۔اور پھر کہتا ہے کہ ایک دفعہ میں بھوت بنا اور ایک دفعہ عورت بنا اور ایک دفعہ ناچنے والا شیطان بنا۔یہ تمام اشارات اس اپنی تمام زندگی کی طرف کرتا ہے جو بزدلی اور زنانہ خصلت اور نا پا کی اور درندگی اور وحشیانہ حالت اور عیاشی اور شکم پرستی اور تو ہمات سے بھری ہوئی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ اس زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ وہ وید کا پیرو تھا کیونکہ وہ وید کے ترک کرنے کے بعد کبھی اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ پھر بھی کوئی حصہ گندی زندگی کا اس کے اندر رہا تھا بلکہ اس کے بعد اس نے بڑے بڑے دعوے کئے اور کہا کہ وہ خدا کا مظہر ہو گیا اور نروان کو پا گیا۔بدھ نے یہ بھی کہا ہے کہ جب انسان دوزخ کے اعمال لے کر دنیا سے جاتا ہے تو وہ دوزخ میں ڈالا جاتا ہے اور دوزخ کے سپاہی اس کو کھینچ کر دوزخ کے بادشاہ کی طرف اس کو لے جاتے ہیں اور اُس بادشاہ کا نام یمہ ہے اور پھر اس دوزخی سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تو نے ان پانچ رسولوں کو نہیں دیکھا تھا جو تیرے آگاہ کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔اور وہ یہ ہیں۔بچپن کا زمانہ۔بڑھاپے کا زمانہ۔بیماری۔مجرم ہو کر دنیا میں سزا پا لینا جو آخرت کی سزا پر ایک دلیل ہے۔مردوں کی لاشیں جو دنیا کی بے ثباتی ظاہر کرتی ہیں۔مجرم جواب دیتا ہے کہ جناب میں نے اپنی بیوقوفی کے سبب ان تمام باتوں پر کچھ بھی غور نہ کی۔تب دوزخ کے موکل اس کو کھینچ کر عذاب کے مقام پر لے جائیں گے اور لوہے کی زنجیروں کے ساتھ جو آگ سے اس قدرگرم کئے ہوئے ہوں گے کہ آگ کی طرح سرخ ہوں گے باندھ دیئے جائیں گے اور نیز بدھ کہتا ہے کہ دوزخ میں کئی طبقے ہیں جن میں مختلف قسم کے گنہ گار ڈالے جائیں گے۔غرض یہ تمام علیمیں بآواز بلند پکار رہی ہیں