فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 139

مسیح ہندوستان میں 139 فلسطین سے کشمیر تک کے ان دونوں عورتوں کو دو کہ لے لیں۔یہ قصہ بدھ کی جانکا میں بھی پایا جاتا ہے اس سے سمجھ آتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے اس ملک کے یہود جو اس ملک میں آگئے تھے ان کے تعلقات بھی بدھ مذہب سے ہو گئے تھے اور بدھ مذہب کی کتابوں میں جو طریق پیدائش دنیا لکھا ہے وہ بھی تو ریت کے بیان سے بہت ملتا ہے اور جیسا کہ توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت ہے ایسا ہی بدھ مذہب کے رو سے ایک جوگی مرد ایک جوگی عورت سے درجہ میں زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ہاں بدھ تناسخ کا قائل ہے مگر اس کا تناسخ انجیل کی تعلیم سے مخالف نہیں ہے۔اس کے نزدیک تناسخ تین قسم پر ہے۔(۱) اول یہ کہ ایک مرنے والے شخص کی عقدِ ہمت اور اعمال کا نتیجہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک اور جسم پیدا ہو۔(۲) دوسری وہ قسم جس کو تبت والوں نے اپنے لاموں میں مانا ہے۔یعنی یہ کہ کسی بدھ یا بد ھستوا کی روح کا کوئی حصہ موجودہ لاموں میں حلول کر آتا ہے یعنی اس کی قوت اور طبیعت اور روحانی خاصیت موجودہ لامہ میں آجاتی ہے اور اس کی روح اس میں اثر کرنے لگتی ہے۔(۳) تیسری قسم تناسخ کی یہ ہے کہ اسی زندگی میں طرح طرح کی پیدائشوں میں انسان گذرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک که در حقیقت اپنے ذاتی خواص کے لحاظ سے انسان بن جاتا ہے۔ایک زمانہ انسان پر وہ آتا ہے کہ گویا وہ بیل ہوتا ہے اور پھر زیادہ حرص اور کچھ شرارت بڑھتی ہے تو کتا بن جاتا ہے اور ایک ہستی پر موت آتی ہے اور دوسری ہستی پہلی ہستی کے اعمال کے موافق پیدا ہو جاتی ہے لیکن یہ سب تغیرات اسی زندگی میں ہوتے ہیں۔اس لئے یہ عقیدہ بھی انجیل کی تعلیم کے مخالف نہیں ہے۔اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ بدھ شیطان کا بھی قائل ہے۔ایسا ہی دوزخ اور بہشت اور ملائک اور قیامت کو بھی مانتا ہے اور یہ الزام جو بدھ خدا کا منکر ہے یہی حض افترا ہے۔بلکہ بدھ ویدانت کا منکر ہے اور اُن جسمانی خداؤں کا منکر ہے جو ہندو مذہب میں بنائے گئے تھے۔ہاں وہ وید پر بہت نکتہ چینی کرتا ہے اور موجودہ وید کو صحیح نہیں مانتا اور اس کو ایک بگڑی