فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 141
141 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں کہ بدھ مذہب نے حضرت مسیح کے فیض صحبت سے کچھ حاصل کیا ہے۔لیکن ہم اس جگہ اس سے زیادہ طول دینا پسند نہیں کرتے اور اس فصل کو اسی جگہ ختم کر دیتے ہیں کیونکہ جبکہ بدھ مذہب کی کتابوں میں صریح طور پر حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے کے لئے پیشگوئی لکھی گئی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور پھر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ بدھ مذہب کی اُن کتابوں میں جو حضرت مسیح کے زمانہ میں تالیف ہوئیں انجیل کی اخلاقی تعلیمیں اور مثالیں موجود ہیں تو ان دونوں باتوں کو باہم ملانے سے کچھ شک نہیں رہ سکتا کہ ضرور حضرت مسیح اس ملک میں آئے تھے۔سو جس شہادت کو ہم بدھ مذہب کی کتابوں میں سے ڈھونڈنا چاہتے تھے خدا کا شکر ہے کہ وہ شہادت کامل طور پر ہمیں دستیاب ہوگئی ہے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 72 تا 93) تیسری فصل ان تاریخی کتابوں کی شہادت میں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک پنجاب اور اس کی مضافات میں آنا ضرور تھا۔چونکہ طبعا یہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام واقعہ صلیب سے نجات پا کر کیوں اس ملک میں آئے اور کس ضرورت نے ان کو اس دور دراز سفر کے لئے آمادہ کیا۔اس لئے اس سوال کا تفصیل سے جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔اور گو ہم پہلے بھی اس بارے میں کسی قد رلکھ آئے ہیں لیکن ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس بحث کو مکمل طور پر درج کتاب کیا جائے۔سو واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے فرض رسالت کے رو سے ملک پنجاب اور اس کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گمشدہ بھیٹر میں رکھا گیا ہے ان ملکوں میں آگئے تھے جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور اُن گم شدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے اور جب