فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 116

مسیح ہندوستان میں 116 فلسطین سے کشمیر تک کی اصل حقیقت کھل جائے گی۔تب انجام ہوگا اور اس عقیدہ کی عمر پوری ہو جائے گی۔لیکن نہ کسی جنگ اور لڑائی سے بلکہ محض آسمانی اسباب سے جو علمی اور استدلالی رنگ میں دنیا میں ظاہر ہوں گے۔یہی مفہوم اس حدیث کا ہے جو صحیح بخاری اور دوسری کتابوں میں درج ہے۔پس ضرور تھا کہ آسمان ان امور اور ان شہادتوں اور ان قطعی اور یقینی ثبوتوں کو ظاہر نہ کرتا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں نہ آتا۔اور ایسا ہی ہوا۔اور اب سے جو وہ موعود ظاہر ہوا ہر ایک کی آنکھ کھلے گی اور غور کرنے والے غور کریں گے کیونکہ خدا کا مسیح آ گیا۔اب ضرور ہے کہ دماغوں میں روشنی اور دلوں میں توجہ اور قلموں میں زور اور کمروں میں ہمت پیدا ہو۔اور اب ہر ایک سعید کو فہم عطا کیا جائے گا اور ہر ایک رشید کو عقل دی جائے گی کیونکہ جو چیز آسمان میں چمکتی ہے وہ ضرور زمین کو بھی منور کرتی ہے۔مبارک وہ جو اس روشنی سے حصہ لے۔اور کیا ہی سعادت مند وہ شخص ہے جو اس نور میں سے کچھ پاوے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ پھل اپنے وقت پر آتے ہیں ایسا ہی نور بھی اپنے وقت پر ہی اتر تا ہے۔اور قبل اس کے جو وہ خود اترے کوئی اس کو اتار نہیں سکتا۔اور جبکہ وہ اترے تو کوئی اس کو بند نہیں کر سکتا۔مگر ضرور ہے کہ جھگڑے ہوں اور اختلاف ہو مگر آخر سچائی کی فتح ہے۔کیونکہ یہ امر انسان سے نہیں ہے اور نہ کسی آدم زاد کے ہاتھوں سے بلکہ اس خدا کی طرف سے ہے جو موسموں کو بدلا تا اور وقتوں کو پھیرتا اور دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے۔وہ تاریکی بھی پیدا کرتا ہے مگر چاہتا روشنی کو ہے۔وہ شرک کو بھی پھیلنے دیتا ہے مگر پیار اس کا توحید سے ہی ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا جلال دوسرے کو دیا جائے۔جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اس وقت تک کہ نابود ہو جائے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ توحید کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔جتنے نبی اس نے بھیجے سب اسی لئے آئے تھے کہ تا انسانوں اور دوسری مخلوقوں کی پرستش دور کر کے خدا کی پرستش دنیا میں قائم کریں اور ان کی خدمت یہی تھی کہ لا الہ الا اللہ کا مضمون زمین پر چمکے جیسا کہ وہ آسمان پر چمکتا ہے۔سوان سب میں سے بڑا وہ ہے جس نے اس مضمون کو بہت چمکایا۔جس نے پہلے باطل الہوں کی کمزوری ثابت کی اور علم اور طاقت کے رو سے ان کا بیچ ہونا ثابت کیا۔اور جب سب کچھ