فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 115

115 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں اور اہلِ اسلام کے ہی ہاتھ میں ہوتیں تو شاید کوئی جلد باز یہ خیال کر سکتا کہ مسلمانوں نے عیسائی عقیدہ پر حملہ کرنے کے لئے جعلی طور پر یہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھ دی ہیں۔مگر یہ خیال علاوہ ان وجوہ کے جو ہم بعد میں لکھتے ہیں اس وجہ سے بھی غلط تھا کہ ایسے جعل کے مسلمان کسی طور سے مرتکب نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ عیسائیوں کی طرح مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد بلا توقف آسمان پر چلے گئے۔اور مسلمان تو اس بات کے قائل بھی نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر کھینچا گیا یا صلیب پر سے ان کو زخم پہنچے پھر وہ عمداً ایسی جعل سازی کیونکر کر سکتے تھے جو ان کے عقیدہ کے بھی مخالف تھی۔ماسوا اس کے ابھی اسلام کا دنیا میں وجود بھی نہیں تھا جبکہ رومی و یونانی وغیرہ زبانوں میں ایسی قرابا دینیں لکھی گئیں اور کروڑہا لوگوں میں مشہور کی گئیں جن میں مرہم عیسی کا نسخہ موجود تھا اور ساتھ ہی یہ تشریح بھی موجود تھی کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بنائی تھی۔اور یہ قومیں یعنی یہودی و عیسائی واہل اسلام و مجوسی مذہبی طور پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔پس ان سب کا اس مرہم کو اپنی کتابوں میں درج کرنا بلکہ درج کرنے کے وقت اپنے مذہبی عقیدوں کی بھی پرواہ نہ رکھنا صاف اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مرہم ایسا واقعہ مشہورہ تھا کہ کوئی فرقہ اور کوئی قوم اس سے منکر نہ ہوسکی۔ہاں جب تک وہ وقت نہ آیا جو مسیح موعود کے ظہور کا وقت تھا اس وقت تک ان تمام قوموں کے ذہن کو اس طرف التفات نہیں ہوئی کہ یہ نسخہ جو صدہا کتابوں میں درج اور مختلف قوموں کے کروڑہا انسانوں میں شہرت یاب ہو چکا ہے اس سے کوئی تاریخی فائدہ حاصل کریں۔پس اس جگہ ہم بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خدا کا ارادہ تھا کہ وہ چمکتا ہوا حربہ اور وہ حقیقت نما برہان کہ جو صلیبی اعتقاد کا خاتمہ کرے اس کی نسبت ابتدا سے یہی مقدر تھا کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دنیا میں ظاہر ہو۔کیونکہ خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ صلیبی مذہب نہ گھٹے گا اور نہ اس کی ترقی میں فتور آئے گا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں ظاہر نہ ہو۔اور وہی ہے جو کسر صلیب اس کے ہاتھ پر ہوگی۔اس پیشگوئی میں یہی اشارہ تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں خدا کے ارادہ سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے صلیبی واقعہ