فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 117
مسیح ہندوستان میں 117 فلسطین سے کشمیر تک ثابت کر چکا تو پھر اس فتح نمایاں کی ہمیشہ کے لئے یاد گار یہ چھوڑی کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ اس نے صرف بے ثبوت دعوی کے طور پر لَا إِلهَ إِلَّا الله نہیں کہا بلکہ اس نے پہلے ثبوت دے کر اور باطل کا بطلان دکھلا کر پھر لوگوں کو اس طرف توجہ دی کہ دیکھو اس خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں جس نے تمہاری تمام قوتیں توڑ دیں اور تمام شیخیاں نابود کر دیں۔سو اس ثابت شدہ بات کو یاد دلانے کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ مبارک کلمہ سکھلایا کہ لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله۔( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 56 تا 65) باب چهارم ان شہادتوں کے بیان میں جو تاریخی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں کچھ چونکہ اس باب میں مختلف قسم کی شہادتیں ہیں اس لئے صفائی ترتیب کے لئے ہم اس کو کئی فصل پر منقسم کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔پہلی فصل ان شہادتوں کے ذکر میں جوان اسلامی کتابوں سے لی گئی ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی سیاحت کو ثابت کرتی ہیں۔کتاب روضۃ الصفا جو ایک مشہور تاریخی کتاب ہے اس کے صفحہ ۱۳۰۔۱۳۱۔۱۳۲۔۱۳۳ ۱۳۴۔۱۳۵ میں بزبان فارسی وہ عبارت لکھی ہے جس کا خلاصہ ترجمہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔اور وہ یہ ہے:۔حضرت عیسی علیہ السلام کا نام مسیح اس واسطے رکھا گیا کہ وہ سیاحت بہت کرتے تھے ایک پشمی طاقیہ ان کے سر پر ہوتا تھا اور ایک پشمی کرتہ پہنے رہتے تھے۔اور ایک عصا ہاتھ میں ہوتا تھا۔اور ہمیشہ ملک بہ ملک اور شہر بشہر پھرتے تھے اور جہاں رات پڑ جاتی وہیں رہ جاتے تھے۔جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے۔ایک