فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 104
مسیح ہندوستان میں 104 فلسطین سے کشمیر تک باب دوم ان شہادتوں کے بیان میں جو حضرت مسیح کے بچ جانے کی نسبت قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ہم کو ملی ہیں کی یہ دلائل جواب ہم اس باب میں لکھنے لگے ہیں بظاہر ان کی نسبت ہر ایک کو خیال پیدا ہوگا کہ عیسائیوں کے مقابل پر ان وجوہات کو پیش کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ وہ لوگ قرآن شریف یا کسی حدیث کو اپنے لئے حجت نہیں سمجھتے۔لیکن ہم نے محض اس غرض سے ان کو لکھا ہے کہ تا عیسائیوں کو قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ معلوم ہو اور ان پر یہ حقیقت کھلے کہ کیونکر وہ سچائیاں جو صد ہابرس کے بعد اب معلوم ہوئی ہیں وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے پہلے سے بیان کر دی ہیں۔چنانچہ اُن میں سے کسی قدر ذیل میں لکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِّهَ لَهُمُ الآية۔وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينا الآیة یعنی یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو درحقیقت قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان کے دل اس بات پر مطمئن ہو سکیں کہ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بظاہر مسیح صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک دھوکا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے وہ صلیبی موت سے بیچ رہا۔اب انصاف کرنے کا مقام ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے یہود اور نصاری کے برخلاف فرمایا تھا آخر کار وہی بات سچی نکلی۔اور اس زمانہ کی اعلیٰ درجہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا کہ النساء: 158