فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 105
مسیح ہندوستان میں 105 فلسطین سے کشمیر تک حضرت مسیح در حقیقت صلیبی موت سے بچائے گئے تھے۔کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیونکر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹہ میں نکل گئی۔اسی وجہ سے بعض یہودیوں نے ایک اور بات بنائی ہے کہ ہم نے مسیح کو تلوار سے قتل کر دیا تھا۔حالانکہ یہودیوں کی پرانی تاریخ کے رو سے مسیح کو تلوار کے ذریعہ سے قتل کرنا ثابت نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ مسیح کے بچانے کے لئے اندھیرا ہوا۔بھونچال آیا۔پلاطوس کی بیوی کو خواب آئی۔سبت کے دن کی رات قریب آگئی جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا روا نہ تھا۔حاکم کا دل بوجہ ہولناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کے لئے متوجہ ہوا۔یہ تمام واقعات خدا نے اس لئے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تا مسیح کی جان بچ جائے۔اس کے علاوہ میسیج کو ششی کی حالت میں کر دیا کہ تا ہر ایک کو مُردہ معلوم ہو۔اور یہودیوں پر اس وقت ایک ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ کے دکھلا کر بزدلی اور خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا۔اور یہ دھڑ کہ اس کے علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صلیب پر نہ رہ جائیں۔پھر یہ بھی ہوا کہ یہودیوں نے مسیح کوششی میں دیکھ کر سمجھ لیا کہ فوت ہو گیا ہے۔اندھیرے اور بھونچال اور گھبراہٹ کا وقت تھا۔گھروں کا بھی ان کو فکر پڑا کہ شاید اس بھونچال اور اندھیرے سے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی۔اور یہ دہشت بھی دلوں پر غالب ہوئی کہ اگر یہ شخص کا ذب اور کافر تھا جیسا کہ ہم نے دل میں سمجھا ہے تو اس کے اس دکھ دینے کے وقت ایسے ہولناک آثار کیوں ظاہر ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔لہذا ان کے دل بے قرار ہو کر اس لائق نہ رہے کہ وہ مسیح کو اچھی طرح دیکھتے کہ آیا مر گیا یا کیا حال ہے۔مگر در حقیقت یہ سب امور مسیح کے بچانے کے لئے خدائی تدبیریں تھیں۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وَلَكِنُ شُبِّهَ لَهُمُ * یعنی یہود نے مسیح کو جان سے مارا نہیں ہے لیکن خدا نے ان کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا جان سے مار دیا ہے۔اس سے راستبازوں کو خدائے تعالیٰ کے فضل پر بڑی امید بڑھتی ہے کہ جس طرح اپنے بندوں کو چاہے بچالے۔اور قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت حضرت مسیح کے حق میں ہے۔وَجِيهاً فِى النساء : 158