فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 100

مسیح ہندوستان میں 100 فلسطین سے کشمیر تک کو ملے اور گلیل تک سفر کیا اور روٹی کھائی اور کباب کھائے اور اپنے زخم دکھلائے اور ایک رات بمقام اما ؤس حواریوں کے ساتھ رہے اور خفیہ طور پر پلاطوس کے علاقہ سے بھاگے اور نبیوں کی سنت کے موافق اس ملک سے ہجرت کی اور ڈرتے ہوئے سفر کیا تو یہ تمام واقعات اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے اور فانی جسم کے تمام لوازم ان کے ساتھ تھے اور کوئی نئی تبدیلی ان میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کوئی عینی شہادت انجیل سے نہیں ملتی۔اور اگر ایسی شہادت ہوتی بھی تب بھی لائق اعتبار نہ تھی۔کیونکہ انجیل نویسوں کی یہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ وہ بات کا بتونگڑا بنا لیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے چڑھاتے ایک پہاڑ اس کو کر دیتے ہیں۔مثلا کسی انجیل نویس کے منہ سے نکل گیا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔اب دوسرا انجیل نویس اس فکر میں پڑتا ہے کہ اس کو پورا خدا بناوے اور تیسرا تمام زمین آسمان کے اختیار اس کو دیتا ہے اور چوتھا واشگاف کہہ دیتا ہے کہ وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں۔غرض اس طرح پر کھینچتے کھینچتے کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں۔دیکھو وہ رؤیا جس میں نظر آیا تھا کہ گویا مُردے قبروں میں سے اٹھ کر شہر میں چلے گئے۔اب ظاہری معنوں پر زور دے کر یہ جتلایا گیا کہ حقیقت میں مُردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھے اور یروشلم شہر میں آ کر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔اس جگہ غور کرو کہ کیسے ایک پر کا کو ابنایا گیا۔پھر وہ ایک کوا نہ رہا بلکہ لاکھوں کو لے اڑائے گئے۔جس جگہ مبالغہ کا یہ حال ہو اس جگہ حقیقتوں کا کیونکر پنہ لگے۔غور کے لائق ہے کہ ان انجیلوں میں جو خدا کی کتا میں کہلاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے کہ مسیح نے وہ کام کئے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کتا ہیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں سما نہ سکتیں۔کیا اتنا مبالغہ طریق دیانت وامانت ہے۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر مسیح کے کام ایسے ہی غیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حد میں کیونکر آگئے۔ان انجیلوں میں یہ بھی خرابی ہے کہ بعض پہلی کتابوں کے حوالے غلط بھی کوئی بیان نہیں کرتا کہ میں اس بات کا گواہ ہوں اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔منہ