فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 99

99 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں جیسا کہ حضرت یوسف کی خواب کی تعبیر کی گئی۔ایسا ہی اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی۔اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور خدا نے اس کو صلیب کی موت سے نجات دے دی۔اور اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ یہ تعبیر تمہیں کہاں سے معلوم ہوئی تو اس کا یہ جواب ہے کہ فن تعبیر کے اماموں نے ایسا ہی لکھا ہے اور تمام معبرین نے اپنے تجربہ سے اس پر گواہی دی ہے۔چنانچہ ہم قدیم زمانہ کے ایک امام فن تعبیر یعنی صاحب کتاب تعطیر الا نام کی تعبیر کو اس کی اصل عبارت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں۔اور وہ یہ ہے من رأى أن الموتى وثبوا من قبورهم و رجعوا الى دورهم فانه يطلق من في السجن۔دیکھو کتاب تعطیر الانام فى تعبير المنام مصنفہ قطب الزمان شیخ عبد الغني النابلسی صفحه ۲۸۹۔ترجمہ: اگر کوئی یہ خواب دیکھے یا کشفی طور پر مشاہدہ کرے کہ مردے قبروں میں سے نکل آئے اور اپنے گھروں کی طرف رجوع کیا تو اس کی یہ تعبیر ہے کہ ایک قیدی قید سے رہائی پائے گا اور ظالموں کے ہاتھ سے اس کو خلصی حاصل ہوگی۔طرز بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قیدی ہوگا کہ ایک شان اور عظمت رکھتا ہوگا۔اب دیکھو یہ تعبیر کیسی معقولی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام پر صادق آتی ہے اور فی الفور سمجھ آ جاتا ہے کہ اسی اشارہ کے ظاہر کرنے کے لئے فوت شدہ راستباز زندہ ہو کر شہر میں داخل ہوتے نظر آئے کہ تا اہلِ فراست معلوم کریں کہ حضرت مسیح صلیبی موت سے بچائے گئے۔ایسا ہی اور بہت سے مقامات انجیلوں میں پائے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے نہیں مرے بلکہ مخلصی پا کر کسی دوسرے ملک میں چلے گئے۔لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے بیان کیا ہے وہ منصفوں کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ممکن ہے کہ بعض دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہو کہ انجیلوں میں یہ بھی تو بار بار ذکر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت ہو گئے اور پھر زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے۔ایسے اعتراضات کا جواب میں پہلے بطور اختصار دے چکا ہوں۔اور اب بھی اس قدر بیان کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی واقعہ کے بعد حواریوں