فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 81

مسیح ہندوستان میں 81 فلسطین سے کشمیر تک اب یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی جسم پانے کے بعد یعنی اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھا کہ کھانے پینے سے پاک ہوکر ہمیشہ خدائے تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزہ ہو اور ازلی ابدی خدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہوا بھی اس میں یہ نقص باقی رہ گیا کہ اس پر صلیب اور کیلوں کے تازہ زخم موجود تھے جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف ان کے ساتھ تھی جن کے واسطے ایک مرہم بھی طیار کی گئی تھی۔اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جوابد تک سلامت اور بے عیب اور کامل اور غیر متغیر چاہئیے تھا کئی قسم کے نقصانوں سے بھرا رہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلا ئیں اور پھر اسی پر کفایت نہیں بلکہ اس فانی جسم کے لوازم میں سے بھوک اور پیاس کی دردبھی موجود تھی ورنہ اس لغو حرکت کی کیا ضرورت تھی کہ مسیح جلیل کے سفر میں کھانا کھاتا اور پانی پیتا اور آرام کرتا اور سوتا۔اس میں کیا شک ہے کہ اس عالم میں جسم فانی کے لئے بھوک اور پیاس بھی ایک درد ہے جس کے حد سے زیادہ ہونے سے انسان مرسکتا ہے۔پس بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور نہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک غشی کی حالت ہوگئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی۔اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہوا کہ جس قبر میں وہ رکھا گیا وہ اس ملک کی قبروں کی طرح نہ تھی بلکہ ایک ہوا دار کوٹھہ تھا جس میں ایک کھڑکی تھی اور اس زمانہ میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ قبر کو ایک ہوادار اور کشادہ کوٹھہ کی طرح بناتے تھے اور اس میں ایک کھڑ کی رکھتے تھے اور ایسی قبریں پہلے سے موجود رہتی تھیں اور پھر وقت پر میت اس میں رکھی جاتی تھی۔چنانچہ یہ گواہی انجیلوں سے صاف طور پر ملتی ہے۔انجیل لوقا میں یہ عبارت ہے اور وے یعنی عورتیں اتوار کے دن بڑے تڑکے یعنی کچھ اندھیرے سے ہی ان خوشبوؤں کو جو طیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں اور ان کے ساتھ کئی اور بھی عورتیں تھیں۔اور انہوں نے پتھر کو قبر پر سے ڈھلکا ہوا پایا۔(اس مقام میں ذرہ غور کرو ) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لاش نہ پائی“ دیکھو لوقا باب ۲۴۔آیت ۲ و ۳۔اب اندر جانے کے لفظ کو ذرہ سوچو۔ظاہر ہے کہ اسی قبر کے اندر انسان جاسکتا ہے کہ جو ایک کو ٹھے کی طرح ہو اور اس میں کھڑ کی ہو۔اور ہم اپنے محل پر