فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 82
مسیح ہندوستان میں 82 فلسطین سے کشمیر تک اسی کتاب میں بیان کریں گے کہ حال میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبرسری نگر کشمیر میں پائی گئی ہے وہ بھی اس قبر کی طرح کھڑکی دار ہے۔اور یہ ایک بڑے راز کی بات ہے جس پر توجہ کرنے سے محققین کے دل ایک عظیم الشان نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کوملی ہیں پلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے۔اور وہ یہ ہے۔اور جبکہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔یوسف ارتیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاطس پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی اور پلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ وہ یعنی مسیح ایسا جلد مر گیا۔دیکھو مرقس باب * ۱۶ آیت ۴۲ سے ۴۴ تک۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا۔اور شبہ بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کوملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا۔بلکہ بڑا ہی سبت تھا پلا طوس سے عرض کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔تب سپاہیوں نے آ کر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے تو ڑیں لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آ کے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانمیں نہ توڑیں۔پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکالا۔دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے آیت ۳۴ تک۔ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اس کی ہڈیاں توڑتے تھے لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑی گئیں اور وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔اسی وجہ سے پسلی چھیدنے سے خون بھی نکلا۔مردہ کا خون جم جاتا ہے۔اور اس جگہ یہ بھی صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر یہ کچھ سازش کی بات تھی۔پلاطوس ایک خدا ترس اور نیک دل آدمی تھا۔کھلی کھلی رعایت حمد ایڈیشن اول میں سہو ہے۔درست باب 15 ہے۔