فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 80
مسیح ہندوستان میں 80 فلسطین سے کشمیر تک چاہئیے کہ ہم سچائی کے قبول کرنے میں قوم اور برادری اور عقائد رسمیہ کی کچھ پرواہ نہ کریں۔جب سے انسان پیدا ہوا ہے آج تک اس کی کو تہ اندیشیوں نے ہزاروں چیزوں کو خدا بنا ڈالا ہے۔یہاں تک کہ بلیوں اور سانپوں کو بھی پوجا گیا ہے۔لیکن پھر بھی عظمند لوگ خدا دا د توفیق سے اس قسم کے مشرکانہ عقیدوں سے نجات پاتے آئے ہیں۔اور منجملہ اُن شہادتوں کے جو انجیل سے ہمیں مسیح ابن مریم کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر ملتی ہیں اس کا وہ سفر دور دراز ہے جو قبر سے نکل کر جلیل کی طرف اس نے کیا۔چنانچہ اتوار کی صبح کو پہلے وہ مریم مگر لینی کو ملا۔مریم نے فی الفور حواریوں کو بر کی کہ میسج تو جیتا ہے لیکن وہ یقین نہ لائے پھر وہ حواریوں میں سے دو کو جبکہ وہ دیہات کی طرف جاتے تھے دکھائی دیا آخر وہ گیارہوں کو جبکہ وہ کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور ان کی بے ایمانی اور سخت دلی پر ملامت کی۔دیکھو انجیل مرقس باب ۱۶ آیت ۹ سے آیت ۱۴ تک۔اور جب مسیح کے حواری سفر کرتے ہوئے اس بستی کی طرف جارہے تھے جس کا نام املوس * ہے جو یروشلم سے پونے چارکوس کے فاصلے پر ہے تب مسیح ان کو ملا۔اور جب وہ اس بستی کے نزدیک پہنچے تو صحیح نے آگے بڑھ کر چاہا کہ ان سے الگ ہو جائے۔تب انہوں نے اس کو جانے سے روک لیا کہ آج رات ہم اکٹھے رہیں گے اور اس نے ان کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی اور وہ سب مع مسیح کے املوس و نام ایک گاؤں میں رات رہے۔دیکھولوقا باب ۲۴ آیت ۱۳ سے ۳۱ تک۔اب ظاہر ہے کہ ایک جلالی جسم کے ساتھ جو موت کے بعد خیال کیا گیا ہے مسیح سے فانی جسم کے عادات صادر ہونا اور کھانا اور پینا اور سونا اور جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کرنا جو یروشلم سے قریباً سترہ سے کوس کے فاصلے پر تھا بالکل غیر ممکن اور نامعقول بات ہے۔اور باوجود اس کے کہ خیالات کے میلان کی وجہ سے انجیلوں کے ان قصوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا ہے تاہم جس قدر الفاظ پائے جاتے ہیں ان سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُسی فانی اور معمولی جسم سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پاجلیل کی طرف ایک لمبا سفر کیا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات ان کے پاس روٹی کھائی اور سویا۔اور آگے چل کر ہم ثابت کریں گے کہ اس نے اپنے زخموں کا ایک مرہم کے استعمال سے علاج کیا۔ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے درست اما ؤس ہے۔