پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 222

پردہ — Page 151

بعض کرنے والی بھی ہیں ، نقاب کا پر وہ بھی بعضوں نے شروع کر دیا ہے۔یہاں بھی ہماری ایفرو امریکن بہنیں جو بہت ساری امریکہ سے آئی ہوئی ہیں اُن میں سے بعض کا ایسا اعلیٰ پر دہ تھا کہ قابل تقلید تھا، ایک نمونہ تھا بلکہ کل ملاقات میں میں نے اُن کو کہا بھی کہ لگتا ہے کہ اب تم لوگ جو ہو تم پاکستانیوں کے لئے پر دے کی مثالیں قائم کرو گے یا جو انڈیا سے آنے والے ہیں اُن کے لئے پردے کی مثالیں قائم کرو گے۔اس پر جس طرح انہوں نے ہنس کر جواب دیا تھا کہ یقیناً ایسا ہی ہوگا تو اس پر مجھے اور فکر پیدا ہوئی کہ پرانے احمدیوں کے بے پردگی کے جو یہ نمونے ہیں یقیناً نئی آنے والیاں وہ دیکھ رہی ہیں جبھی تو یہ جواب تھا۔۔۔۔اور یہ بھی بتا دوں کہ بچیاں اس وقت تک پردے نہیں کریں گی جب تک آپ اپنے نمونے اُن کے سامنے قائم نہیں کریں گی ، مائیں ان کے سامنے اپنے نمونے قائم نہیں کریں گی۔پس اگر آپ نے جماعت کا بہترین مال بننا ہے خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے خود بھی اور اپنی اولادوں کو بھی اُس کی پناہ میں لانا ہے، اُس کو اپنا ولی اور دوست بنانا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھنا ہے، اپنے بچوں اور بچیوں کو اس معاشرے کے گند سے بچانا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی تعمیل کرنی ہوگی اس پر بھی عمل کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے اور آپ لوگ ہر معاملے میں وہ نمونے قائم کرنے والی بن جائیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔“ ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 25 جون 2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 مارچ 2007ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حیا کے احساس کو قائم رکھنے کے اہم پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: عورتوں کے لئے بھی میں ایک مثال دوں گا۔اور حیا کی حالت ہے۔پرده 151