پردہ — Page 150
پرده اس بات سے ہی نمونہ پکڑنا چاہئے کہ غیر مذاہب سے احمدیت میں داخل ہونے والی عورتیں تو اپنے لباس کو حیادار بنارہی ہیں۔جن کے لباس اترے ہوئے ہیں وہ اپنے ڈھکے ہوئے لباس پہن رہی ہیں اور احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور آپ اس حیادار لباس کو اتار کر ہلکے لباس کی طرف آرہی ہیں۔جو آہستہ آہستہ بالکل بے کر دے گا۔بجائے اس کے دین کے علم کے آنے کے ساتھ ساتھ روحانیت میں ترقی ہو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پہلے سے بڑھ کر پابندی ہو اس سے دور ہٹنا سوائے اس کے دوبارہ جہالت کے گڑھے میں گرادے اور کچھ نہیں ہوگا۔پھر ایک حکم کے بعد دوسرے حکم پر عمل کرنے میں سستی پیدا ہوگی پھر نسلوں میں دین سے دوری پیدا ہوگی جیسا کہ پہلے ہی میں بتا آیا ہوں اور پھر اس طرح آہستہ آہستہ نسلیں بالکل دین سے دور ہٹ جاتی ہیں اور برباد ہورہی ہوتی ہیں۔“ ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 29 جولائی 2006 ء۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 26 جون 2015ء) اسی حوالہ سے ایک اور موقع پر احمدی خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یہ جو چھوڑنے والی ہیں ان میں ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔احمدی عورت کو تو ہر طرح کے احساس کمتری سے پاک ہونا چاہیئے۔کسی قسم کا complex نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی پوچھتا بھی ہے تو کھل کر کہیں کہ ہمارے لئے اور حیا کا اظہار ایک بنیادی شرعی حکم ہے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ جن عورتوں کو کوئی complex نہیں ہوتا، جو کرنے والی عورتیں ہیں اس مغربی ماحول میں بھی اسی پردے کی وجہ سے اُن کا نیک اثر پڑ رہا ہوتا ہے، ان کو اچھا سمجھا جارہا ہوتا ہے۔اس لئے یہ احساس کمتری اپنے دل سے نکال دیں کہ پردے کی وجہ سے کوئی آپ پر انگلی اُٹھا رہا ہے۔اپنی ایک پہچان رکھیں۔افریقہ میں میں نے دیکھا ہے جہاں لباس نہیں تھا اُنہوں نے لباس پہنا اور پورا ڈھکا ہوا لباس پہنا اور 150