پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 222

پردہ — Page 152

پرده اگر ایک دفعہ یہ ختم ہو جائے تو پھر بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے۔آسٹریلیا میں مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض بڑی عمر کی عورتوں نے جو پاکستان سے وہاں آسٹریلیا میں اپنے بچوں کے پاس نئی نئی گئی تھیں، اپنی بچیوں کو یہ دیکھ کر کہ نہیں کرتیں انہیں پردے کا کہا کہ کم از کم حیا دار لباس پہنو، سکارف لو تو ان کی لڑکیوں میں سے بعض جوایسی ہیں کہ نہ کرنے والی ہیں، انہوں نے یہ کہا کہ یہاں کرنا بہت بڑا جرم ہے اور آپ بھی چھوڑ دیں تو مجبوراً ان عورتوں نے بھی جو کا کہنے والی تھیں، جن کو ساری عمر پر دے کی عادت تھی اس خوف کی وجہ سے کہ جرم ہے، خود بھی چھوڑ دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی ایسا قانون نہیں ہے، نہ جرم ہے۔کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس طرف توجہ دیتا ہے۔صرف فیشن کی خاطر چند نوجوان عورتوں اور بچیوں نے پر دے چھوڑ دیتے ہیں۔پاکستان سے شادی ہو کر وہاں آنے والی ایک بچی نے مجھے لکھا کہ مجھے بھی زبر دستی پر دہ چھڑوا دیا گیا تھا۔یا ماحول کی وجہ سے میں بھی کچھ اس دام میں آگئی اور چھوڑ دیا۔اب میں جب وہاں دورے پر گیا ہوں تو اُس نے لکھا کہ آپ نے جلسہ میں جو تقریر عورتوں میں کی اور پردے کے بارے میں کہا تو اُس وقت میں نے برقع پہنا ہوا تھا، تو اس وقت سے میں نے برقع پہنے رکھا ہے اور اب میں اُس پر قائم ہوں اور کوشش بھی کر رہی ہوں اور دعا بھی کر رہی ہوں کہ اس پر قائم رہوں۔اُس نے دعا کے لئے بھی لکھا۔تو پر دے اس لئے چھٹ رہے ہیں کہ اس حکم کی جو قرآنی حکم ہے، بار بار ذہن میں جگالی نہیں کی جاتی۔نہ ہی گھروں میں اس کے ذکر ہوتے ہیں۔پس عملی اصلاح کے لئے بار بار برائی کا ذکر ہونا اور نیکی کا ذکر ہونا ضروری (خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 2013ء مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10 جنوری 2014ء) 152