پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 222

پردہ — Page 206

پرده کرتی تھیں، ہمیں بتاتی تھیں۔یہ کوشش تھی کہ ربوہ کی ہر بچی اور ہر عورت تربیت کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کی ہو۔کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ اگر کے معیار کو گرا ہوا دیکھا تو سڑک پر چلنے والی کو، عورت ہو یا لڑکی یا لڑکیوں کو اس طرح چلتے دیکھا جو کہ احمدی لڑکی کے وقار کے خلاف ہے تو وہیں پیار سے اُس کے پاس جا کر اُسے سمجھانے کی کوشش کرتیں۔بتاتیں کہ ایک احمدی بچی کے وقار کا معیار کیا ہونا چاہئے۔پردے کے ضمن میں ہی حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک تقریر کا ایک حصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔1982ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خلافت کا جو پہلا جلسہ تھا اس پر لجنہ کے جلسہ گاہ میں آپ نے جو تقریر فرمائی ، اس میں پردے کا بھی ذکر فرمایا۔اس ضمن میں ہماری والدہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہماری ایک باجی جان ہیں ، اُن کا شروع سے ہی میں سختی کی طرف رجحان رہا ہے کیونکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت میں جو پہلی نسل ہے اُن میں سے وہ ہیں۔جو گھر میں مصلح موعود کو انہوں نے کرتے دیکھا جس طرح بچیوں کو باہر نکالتے دیکھا ایسا اُن کی فطرت میں رچ چکا ہے کہ وہ اس عادت سے ہٹ ہی نہیں سکتیں۔ان کے متعلق بعض ہماری بچیوں کا خیال ہے کہ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہو۔پاگل ہو گئے ہیں، پرانے وقتوں کے لوگ ہیں۔ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں۔لیکن اگلے وقت کو نسے؟ میں تو اُن اگلے وقتوں کو جانتا ہوں، (فرماتے ہیں کہ ) میں تو اُن اگلے وقتوں کو جانتا ہوں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے وقت ہیں۔اس لئے ان کو اگر اگلے وقتوں کا کہہ کر کسی نے کچھ کہنا ہے تو اس کی مرضی ہے وہ جانے اور خدا کا معاملہ جانے، 66 لیکن یہ جو میری بہن ہیں واقعتاً تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس بات پر سختی کرتی ہیں۔“ ( خطبه جمعه فرموده 5 را گست 2011 بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن - مطبوع الفضل انٹرنیشنل 26 اگست 2011 ء 206