پردہ — Page 53
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی شدہ لوگوں میں بھی آزادی اور دوستی کے نام پر گھروں میں آنا جانا، بلا روک ٹوک آنا جانا مسائل پیدا کرتا ہے اور گھر اجڑتے ہیں۔اس لئے ہمیں جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق دی ہے، اسلام کے ہر حکم کی حکمت ہمیں سمجھائی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بغیر کسی قسم کے سوال اور ترڈ د کے عمل کرنا چاہئے۔“ ( خطبہ جمعہ فرموده 20 رمئی 2016ء بمقام مسجد گوٹن برگ، سویڈن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10 جون 2016ء) عورتوں اور مردوں کی مجالس علیحدہ ہوں اسلامی تعلیم تو یہی ہے کہ مردوں اور عورتوں کی آزادانہ اور بے حجابانہ ملا قاتیں نہ ہوں یا مخلوط مجالس نہ لگائی جائیں۔اس سلسلہ میں احمدی عورتوں کی رہنمائی کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے نہایت پر حکمت نصیحت یوں فرمائی: اگر آپ برقع پہن کر مرودوں کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کردیں، مردوں سے مصافحے کرنا شروع کر دیں تو کا تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔کا مقصد تو یہ ہے کہ نامحرم مرد اور عورت آپس میں کھلے طور پر میل جول نہ کریں، آپس میں نہ ملیں، دونوں کی جگہیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔اگر آپ اپنی سہیلی کے گھر جا کر اس کے خاوند یا بھائیوں یا رشتہ داروں سے آزادانہ ماحول میں بیٹھی ہیں۔چاہے منہ کو ڈھانک کے بیٹھی ہوتی ہیں یا منہ ڈھانک کر کسی سے ہاتھ ملارہی ہیں تو یہ تو نہیں ہے۔جو پردے کی غرض ہے وہ تو یہی ہے کہ نامحرم مرد عورتوں میں نہ آئے اور عورتیں نامحرم مردوں کے سامنے نہ جائیں۔ہر ایک کی مجلسیں پرده 53