پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 222

پردہ — Page 103

اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تم سے تمہاری بدیاں دُور کر دیں گے اور تمہیں ایک بڑی عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔اب یہاں فرمایا کہ بڑے گناہوں سے بچتے رہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بڑے گناہوں کی تلاش کی جائے ، یا یہ دیکھا جائے کہ کون کون سے بڑے گناہ ہیں جن سے بچنا ہے۔ایک حقیقی مومن وہ ہے جو ہر قسم کے گناہوں سے بچتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ستاری تو ہر قسم کے گناہوں کے لئے ہے۔اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بڑے گناہوں سے بچا جائے اور چھوٹے چھوٹے گناہ اگر کر بھی لئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ بڑے گناہوں سے بچو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے گناہوں سے بچو کیونکہ قرآن کریم میں بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں کی کوئی فہرست نہیں ہے، کوئی تخصیص نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ چیز جس کے نہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور سختی سے پابند کیا ہے کہ ایک مومن نہ کرے، اس کو کرنا گناہ ہے۔پس ہر وہ غلط کام جس کے نہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کو چھوڑنے میں اگر کسی کو کوئی دقت پیش آ رہی ہے چاہے وہ چھوٹی سی بات ہے یا بڑی بات ہے تو وہ اس شخص کے لئے بڑا گناہ ہے۔پس جب ایک مشکل چیز کو کرلو گے، اس پر قابو پالو گے تو ایسی برائیاں جن کو چھوڑنا نسبتا آسان ہے وہ بھی خود بخود چھٹ جائیں گی۔بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی گناہ کی انتہا جو ہے وہ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔پس اگر اس انتہاء پر پہنچنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ نے جو اب تک پوشی فرمائی ہے وہ پوشی فرمائے گا۔اس کی پرده 103